بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کسی پر الزام لگاکر اس کی جان کے درپے ہونا


سوال

میری بہن پر ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ تمہاری بہن نے میری بیٹی کے لیے  دلالی کی ہے۔ مطلب کہ تمہاری بہن نے میری بیٹی کو فلاں لڑکے کے ساتھ بھاگنے کا کہا تھا اور اس کے بعد اس شخص نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔ اب  وہ اس کوشش میں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی موت میری بہن کے سر رکھتا ہے۔ کیا یہ ٹھیک ہے شریعت میں؟ شریعت اس بارے میں کیاکہتی ہے؟ وہ بندہ اس الزام کی آڑ میں اب میری بہن کی جان کے درپے ہے۔

جواب

اول تو اس شخص کو  شرعی ثبوت سے اپنا الزام ثابت کرناچاہیے، اگر شرعی ثبوت سے اپنا دعویٰ ثابت نہ کرسکے تو بے گناہ پر ایسی تہمت لگانے سے  اسے باز آنا چاہیے۔  اور اگر وہ الزام ثابت کردے تو بھی اس فعل کی سزا نہ تو قتل ہے اورنہ ہی  عام لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کوقتل کی سزا یا کوئی اورسزا دیں، سزا دینا مسلمان حکومت اور اربابِ اختیار کا کام ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143907200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے