بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی صحابی کا شوال کے روزے رکھنے کا عمل


سوال

کیا یہ بات درست ہے کہ شوال کے روزوں کی اہمیت اور فضیلت تو احادیث میں آئی ہے، مگر کسی صحابی کا شوال کے روزے رکھنے کا عمل کسی حدیث میں نہیں آیا؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺنے  فرمایا:  جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد  شوال کے چھ روزے رکھے یہ ایسا ہے جیسا کہ پورے سال روزے رکھے ہوں۔  (الصحیح لمسلم،  باب: «استحباب صوم ستة أیام من شوال اتباعاً لرمضان» ۲ /۸۲۲  رقم:۱۱۶۴ طبع :دار إحیاء التراث العربي، بیروت)

اس مضمون کی مختلف روایات مختلف الفاظ اور مختلف  طرق کے ساتھ مروی ہیں، سب میں کسی نہ کسی درجہ  میں ضعف پایا  جاتا ہے،  سند کے حوالہ سے  سب سے مضبوط اور صحیح روایت حضرت ابو ایوب انصاری کی ہے، اس روایت کی رو سے شوال کے روزے رکھنا جائز، بلکہ مستحب ہے۔

شوال کے روزے رکھنے میں صحابہ کا طرز عمل:

شوال کے روزوں کے بارے میں تلاشِ بسیار کے باوجود  صحابہ کا کوئی صریح عمل معلوم نہ ہو سکا۔ البتہ "مصباح الزجاجة"  میں ایک صحابی کا عمل منقول ہے کہ آپ علیہ السلام کے ارشاد فرمانے کے بعد وہ شوال کے روزوں کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، گو اس روایت میں بھی چھ روزوں کا تذکرہ نہیں ہے،  صرف روزہ رکھنے کا ذکر ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس سے مراد وہی چھ روزے ہوں جو دیگر روایات میں منقول ہیں، تاہم حضرات صحابہ کرام میں یہ عمل اتنا زیادہ رائج نہیں تھا کہ اسے معمولِ صحابہ کہا جاسکے، شاید زیادہ عام نہ ہونے کی وجہ سے ہی امام مالک رحمہ اللہ  سے اس سلسلے میں کراہت کا قول بھی منقول ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ  اپنی  موطأمیں فرماتے ہیں:

"قال یحيٰ: سمعت مالكاً يقول في صيام ستة أيام بعد الفطر من رمضان: أنه لم ير أحداً من أهل العلم والفقه يصومها، ولم يبلغني عن أحد من السلف". (موطأ الامام مالك، باب: «جامع الصیام» 3/447، طبع: مؤسسة زايد بن سلطان آل نهيان للأعمال الخيرية والإنسانیة - أبو ظبي – الإمارات)

یہی وجہ ہے کہ امام مالک نے شوال کے چھ روزوں کو مکروہ لکھا ہے ۔

لیکن استحباب کے لیے کسی عمل کا کثرت سے ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر وہ کسی ایک صحابی سے بھی منقول ہو اور دیگر حضرات کی طرف سے اس کے خلاف نکیر بھی موجود نہ ہو تو وہ ایک روایت بھی اس کے استحباب کے لیے کافی ہے، خصوصاً چھ روزوں کے بارے  چوں کہ کئی روایات منقول ہیں۔  اور کسی عمل کا منقول نہ ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے، جب کہ اس کی ترغیب کے بارے میں روایتیں بھی موجود ہوں ۔

اس لیے یہ کہنا بالکل درست نہیں ہے کہ صحابہ کرام سے یہ عمل منقول نہیں ہے،  بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثرت کے ساتھ منقول نہیں ہے۔ اور استحباب کے لیے کثرت سے منقول ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ روایات میں اس کی ترغیب اور فضیلت کا موجود ہونا کافی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200990

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے