بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی شہر میں ٹھہرنے والا قصر کب کرے گا؟


سوال

میں ہری پور کے پی کے کارہنے والاہوں  اور نوشہرہ کینٹ میں سرکاری ملازم ہوں، عارضی طور پر کبھی دو تین یا پندرہ بیس  دن کےلیے ایبٹ  آباد اور راول پنڈی  کا سفر کرتا رہتا ہوں ، کیا میں ایبٹ  آباد اور پنڈی میں سفری نماز ادا کیا کرو ں یا مکمل نماز ادا کرنی چاہیے؟ ہری پور اور نوشہرہ تومیرے مقامی شہر ہی ہوئے ، کیا جس جگہ پر میں عارضی طور پر دو تین یا پندرہ بیس دنوں کے لیے عارضی طور پر آیا ہوں، وہاں  نماز سفری ادا کرنا فرض ہے یا پوری نماز فرض ہے؟ 

جواب

ہری پور او ر نوشہرہ دونوں جگہوں پر آپ پوری نماز پڑھیں گے، ایبٹ آباد اور راول پنڈی اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے جانا ہو تو پوری نماز پڑھیں گے، اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو قصر (سفری) نماز پڑھیں گے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143905200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں