بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی شخص کو ویزہ لگاکر باہر بھیج کراس کے وہاں ملازمت کی تنخواہ میں شرکت کرنا


سوال

ایک آدمی اپنے پیسوں سے ویزالے کر کسی دوسرے کو بیرون ملک بھیجے اور کہےکہ تنخواہ دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہوگی، یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں کسی شخص کو بیرونِ ملک ویزہ وغیرہ کے اخراجات دے کر یہ شرط لگانا کہ وہ بیرونِ ملک جاکر جو بھی کام کرے گا اس کی آمدنی دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی، شرعاً یہ معاملہ جائز نہیں ہے،  مذکورہ شخص کو بیرون ملک بھیجنے کے جو  اخراجات ہیں اس سے صرف وہی وصول کیے جاسکتے ہیں، باہر جاکر وہ جو بھی محنت کرکے کمائے گا  اس کا وہی محنت کرنے والے مالک ہوگا، بھیجنے والے کا اس میں کوئی حق وحصہ نہیں ہوگا۔

 فتاوی شامی میں ہے: 

"من قام عن غيره بواجب بأمره رجع بما دفع وإن لم يشترطه كالأمر بالإنفاق عليه وبقضاء دينه". (5/333، کتاب الکفالۃ، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے