بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

خریدار نے جعلی نوٹ دیا، اسے آگے کسی اورکو دینا


سوال

میں ایک دوکان پر کام کرتا ہوں، وہاں بعض اوقات لوگ جعلی نوٹ دے جاتے ہیں. کیا میں ان نوٹوں کو آگے دے سکتا ہوں کسی اور گاہک کو?

جواب

کسی کو جعلی نوٹ دینا  جعل سازی، دھوکا اور فراڈ  ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے،  اگر آپ کو کسی نے جعلی نوٹ دے کر دھوکا دیا ہے تو اس بنا پر شرعاً  آپ کے لیے کسی اور کو دھوکا دینا قطعاً جائز نہیں ہے۔ 

"وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب))." ( مسند أحمد )

ترجمہ: مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔   نیز ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو ہمیں (یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔فقط  واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144105201068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے