بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کسٹمر لانے پر چین در چین کمیشن کا لینا دینا


سوال

فتوی نمبر:144012201297 وضاحت:

جب کوئی کسٹمر آتا ہے تو میں اس کا اکاؤنٹ بناتا ہوں، جب وہ خریداری کرتا ہے، تو میں اس کی خریداری پر اس کے اکاؤنٹ میں 7.5روپےڈالتا ہوں اور 2.5روپے اس شخص کے اکاؤنٹ میں ڈالتا ہوں جو اس نئے کسٹمر کو لایا تھا اسی طرح چین در چین یہ سلسلہ کمپیوٹر کی مدد سے چلتا ہے۔یعنی ہر اوپر والے کے اکاؤنٹ میں 75فیصدرہ جاتے ہےاور25فیصد اس کے اوپر والے کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے ہیں۔اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  کسٹمر کو لانے والے شخص کو  اس پہلے کسٹمر کے لانے پر  کمیشن دینا تو جائز ہے، لیکن اس کے بعد چین در چین یہ سلسلہ چلنا کہ ہر بعد والے کسٹمر کا کمیشن بھی پہلے والے  شخص کو ملتا رہے یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 47):
" قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لايقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز؛ لما كان للناس به حاجة، ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل، وذكر أصلاً يستخرج منه كثير من المسائل، فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 63):
"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه، كدخول الحمام". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے