بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ کا معاہدہ لکھنے پر سود لکھنے،گواہ بننے کی وعید صادق آتی ہے؟


سوال

جب کریڈٹ کارڈ بنوایا جاتا ہے تو جو ایگریمنٹ بنتا ہے اس میں یہ بھی لکھا جاتاہے کے اگر ادائیگی ایک مہینے تک نہ کی تو سود ادا کیا جائے گا تو کیا ہم سود دینے پر گواہ بننے کی وعید میں آتے ہیں؟

جواب

حدیثِ مبارک میں سود کھانے والے، کھلانے والے،سودی معاہدہ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت کی گئی ہے اور گناہ میں ان سب کو برابر قرار دیا گیا ہے، لہذا کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت جو معاہدہ کیا جاتا ہے اسے لکھنے اور اس پر دستخط کرنے والے ،سود لینے اور دینے والے سب اس لعنت اور گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔

صحيح مسلم  (5 / 50):
" عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201214

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے