بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کی وبا میں قنوتِ نازلہ پڑھنا


سوال

ملک کی موجودہ صورتِ حال( کرونا وائرس کی وبا) میں قنوتِ نازلہ فجر میں  پڑھنا ٹھیک ہے کہ نہیں؟ 

جواب

طاعون اور وباء پھیلنے کے وقت جب لوگ اضطراب اور پریشانی میں ہوں اس وقت رجوع الی اللہ توبہ استغفار  اور فواحش ومنکرات  کا سد باب کرنے اور صدقہ  کثرت سے کرنے کے ساتھ قنوت نازلہ فجر کی نماز میں پڑھنا  بھی مشروع ہے،جب تک لوگوں سے یہ مصیبت ختم نہ ہو  قنوت جاری رکھی جاسکتی ہے، قنوتِ نازلہ کی دعا درج ذیل ہے:

"اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلاَيُقْضٰى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لاَيَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ وَ لاَيَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ، وَ أَصْلِحْهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ، وَ اجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَ الْحِكْمَةَ وَ ثَبَّتْهُمْ عَلىٰ مِلَّةِ رَسُوْلِكَ، وَ أَوْزِعْهُمْ أَنْ يَّشْكُرُوْا نِعْمَتَكَ الَّتِيْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ وَ أَنْ يُّوْفُوْا بِعَهْدِكَ الَّذِيْ عَاهَدْتَّهُمْ عَلَيْهِ، وَ انْصُرْهُمْ عَلىٰ عَدُوِّكَ وَ عَدُوِّهِمْ، إِلٰهَ الْحَقِّ سُبْحَانَكَ، لَا إِلٰهَ غَيْرُكَ، أَللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوْذُبِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَ الْجُنُوْنِ وَ الْجُذَامِ وَ مِنْ سَيِّءِ الْأسْقَامِ، أَللّٰهُمَّ ارْفَعْ عَنَّا الدَّاءَ الْبَلَاءَ وَ الْوَبَاءَ، اَللّٰهُمَّ الْعَنْ الكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ ، وَيُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُوْنَ أَوْلِيَاءَكَ اَللّٰهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمَ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ ، وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِى لاَتَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ، وَ صَلّٰی اللهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ وِ صَحْبِهِ وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ".

وبائی امراض میں پڑھی جانے والی مسنون دعائیں درج ذیل فتاوی میں ملاحظہ کریں:

وبائی امراض کے خاتمہ اور بچاؤ کے لیے اعمال

کرونا وائرس اور دیگر وبائی امراض میں مسلمانوں کے لیے راہ نمائی

احرام کی حالت میں چہرے پر ماسک پیننا / کرونا وائرس سے بچاؤ کی دعا

اعلاء السنن میں ہے:  

"والقنوت في الفجر لایشرع لمطلق الحرب عندنا، وإنما یشرع لبلیّة شدیدة تبلغ بها القلوب الحناجر ولو لا ذلك یلزم الصحابة القائلین بالقنوت للنازلة أن یقنتوا أبدًا ولایترکوه یومًا لعدم خلوّ المسلمین عن نازلة مّا غالبًا، لا سیّما في زمن الخلفاء الأربعة.  قلت: وهذا هو الذي یحصل به الجمع بین الأحادیث المختلفة في الباب". (۶/۹۶ ، کتاب الصلاة، أبواب الوتر، تتمة في بقیة أحکام قنوت النازلة، ط : إدارة القرآن کراچی)

در مختار میں ہے:

"(ولایقنت لغیره إلا) لنازلة، فیقنت الإمام في الجهریة".

وفي حاشیة ابن عابدین تحت قوله:’’إلا لنازلة‘‘:

"قال في الصحاح: النازلة: الشدیدة من شدائد الدهر، ولا شك أن الطاعون من أشدّ النوازل … قال أبو جعفر الطحاوي: إنما لایقنت عندنا في صلاة الفجر من غیر بلیة، فإن وقعت فتنة أو بلیة فلا بأس به، فعله رسول اللّٰه‘‘. (حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة ، مطلب:في القنوت للنازلة: ۲؍۵۴۲، دار المعرفة، بیروت)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’جب طاعون یا ہیضے وغیرہ کی وبا پھیل جائے جس سے لوگ مضطرب اور پریشان ہوں، تو قنوتِ نازلہ پڑھی جا سکتی ہے؛ تاآں کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کر دے ‘‘۔(فتاویٰ رحیمیہ:۶/۲۱ ط دارالاشاعت کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں