بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس میں مبتلا افراد اور ڈاکٹرز کے لیے روزہ، تراویح اور عید کا حکم


سوال

 کورونا کی وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے اور اب تک تقریباً سوا لاکھ افراد لقمہ اجل اور اٹھارہ لاکھ سے زیادہ بیماری سےمتأثر ہو چکے ہیں۔  رحمتوں کے مہینے رمضان کی بھی آمد آمد ہے۔ ہمیں اپنے رب سے پوری توقع ہے کہ رمضان المبارک میں کی جانے والی ساری عبادات اور توبہ و استغفار اس وبا سے نجات کے ساتھ  ساتھ اخروی فلاح کی ضامن ہوں گی۔ لیکن موجودہ حالات کے حوالے سے کچھ سوالات توجہ طلب ہیں جن کے لیے علمائے کرام سے رہنمائی کی درخواست ہے:

1. کچھ بیماریاں جن میں زیادہ بلڈ یشر ، ذیابیطیس، دل اورسینے کے امراض اور چند دوسری بیماریاں جن میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہےشامل ہیں، کی موجودگی میں کورونا اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے۔ کیا ایسے امراض والےکرونا کے موجودہ وبائی حالات میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟

2. جو افراد مرض کا شکار ہوجائیں تو انہیں بالخصوص قوتِ مدافعت بڑھانے اور اپنے جسم میں پانی کی مقدار کو مناسب حد تک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، بھلے ان کا مرض خطرناک حد تک نہ گیا ہو۔ اور اسی طرح ایسے افراد جن کو ابھی مرض کا شک ہو اور ابھی ٹیسٹ بھی نہ ہوا ہو۔ کیا ایسے افراد کو روزہ چھوڑ سکتے ہیں؛ تاکہ اپنی روزانہ کی خوراک اور پانی کی ضرورت کو پورا کر لیں؟

3. جو ڈاکٹر (اور دوسرا طبی عملہ) کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ہوتا ہے انہیں بیماری لگنے کا نسبتاً زیادہ امکان ہوتا ہے،  ایسے ڈاکٹر جو حفاظتی لباس اور خاص کر مخصوص ماسک استعمال کرتے ہیں اس میں کھل کر سانس لینا مشکل ہوتا ہے، ساتھ  ہی کئی کئی گھنٹے مسلسل ڈیوٹی بھی دینی پڑتی ہے،  اس طرح وہ نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پربھی شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات طبی فیصلوں میں غلطی کا امکان بھی ہو سکتاہے، اگر کسی کو عملاً ایسی صورتِ حال درپیش ہو تو کیا وہ روزہ چھوڑ کر بعد میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟

4. رمضان المبارک میں نما ز تراویح اور دیگر نمازوں میں بھی مساجد کی رونق بڑھ جاتی ہے جو یقینی طور مرض کے تیزی سے پھیلنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہی صورت رمضان کے بعد عید الفطر  پر بڑے اجتماعات اور ایک دوسرے کے گھروں میں اجتماعی ملاقاتوں میں بھی ہوگی۔ ان حوالوں سے بھی راہ نمائی درکار ہے!

جواب

واضح رہے کہ رمضانالمبارک  اعلیٰ وارفع فیوض وبرکات اور انوار وتجلیات کا مہینہ ہے،  مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ  نیکیاں حاصل کرنے اور اللہ تعالی سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کا ایسا ذریعہ ہے کہ جس کی نظیر  کوئی نہیں،  اس مہینہ میں  روزہ ، تراویح ،عبادت  وغیرہ کے ذریعہ انسان روحانی ترقی حاصل کرنے کے ساتھ اللہ تعالی سے اپنی دنیا اورآخرت کےمسائل حل کرواتے ہیں،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کے انتظار میں  بے چین ہوجاتے تھے اور دو مہینے پہلے سے اس مہینہ کے حصول کے لیے دعاؤں اور اشتیاق  کا سلسلہ بڑھ جاتا تھا، آپ ﷺ کے اس طرز  عمل کو اپناتے ہوئے اہلِ ایمان بھی  اس مہینے میں اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر اپنے مسائل کا حل کرواتے ہیں اور اللہ تعالی اس مہینہ کی برکت سے ان کی دعائیں قبول فرماکر ان کی مشکلات کا خاتمہ فرماتے ہیں، لہذا اس مہینہ کی عظمت کو  مدنظر رکھتے ہوئے عبادات کو بڑھاکر اللہ کے حضور آہ وزاری کرکے اس(کرونا وائرس) وبا اور مصیبت کے خاتمے کے لیے دعائیں کرنی چاہییں، نہ یہ کہ اس  سے خوف زدہ ہوکر  انسان مسبب الاسباب سے نظریں ہٹاکر اپنی حقیر تدبیروں کو بروئے کار لانے کے درپے ہوکر اس مہینہ کے  اعمال سے محروم رہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’من أفطر یومًا من رمضان من غیر رخصة ولا مرض لم یقض عنه صوم الدهر کلّه و إن صامه‘‘. 
یعنی جس آدمی نے عذر اور بیماری کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا تو عمر بھر روزہ رکھنے سے بھی ایک روزے کی تلافی نہ ہوگی، اگرچہ قضا کے طور پر عمر بھر روزے بھی رکھ لے۔

لہذا شرعی عذر کے بغیر روزہ ترک کرنا  حرام اور سخت گناہ ہے۔

تاہم شریعت  میں اس ماہِ مبارک  کی اہمیت اور  جو واقعی اعذار و امراض ہیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند   صورتوں میں  روزہ نہ  رکھنے کی اجازت بھی دی ہے،  چنانچہ  پانچ صورتوں میں روزہ  نہ رکھنے کی اجازت ہے: 
(1) مرض : جس کی وجہ سے روزہ کی سکت نہ ہو ،  یا روزہ سے مرض بڑھ جانے کا غالب گمان  یا  ماہر مسلمان دین دار طبیب کی رائے ہو ،  محض  اپنا وہم اور اندیشہ  کافی نہیں ۔(رفعِ عذر کے بعد قضا لازم ہے)
(2) حاملہ (حمل والی عورت)، مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) جن کو روزہ سے اپنی جان یا بچہ کو ایذا و تکلیف پہنچنے کااندیشہ ہو۔ (رفعِ عذرکے بعد قضا لازم ہے)
(3) شرعی مسافر (مقیم ہونے کے بعد قضا ضروری ہے)
(4) ایسا سن رسیدہ ضعیف (بوڑھا/ بوڑھیا) جو روزہ نہ رکھ سکتے ہوں،  معذور ہوں، وہ روزہ کے عوض مستحق  کو  فدیہ  دے دیں۔
(5) حائضہ اور نفساء عورتوں کے لیے روزہ رکھنا درست نہیں،  اگر رکھ لیں تو روزہ ادا نہ ہوگا اور یہ گناہ گار ہوں گی۔  پاک ہونے کے بعد روزہ کی قضا لازم ہے۔ 

اس وضاحت کے بعد سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔   شوگر ، بلڈ پریشر،  دل کے امراض میں مبتلا افراد   کا مرض اگر شدید نہ ہو اپنی طبیعت کی بنیاد پر روزہ رکھ سکتے ہوں اور عمومی حالات میں رمضان  کے روزہ رکھتے  بھی ہوں  تو  جب تک مسلمان دین دار ماہر  طبیب  انہیں روزہ چھوڑنے کا  حکم نہ دے  تب تک انہیں محض توہم اور اندیشہ  کی بنیاد پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہوگا،  البتہ شدید مرض والے  افراد یا جنہیں مسلمان دین دار ڈاکٹر روزہ نہ رکھنے کا حکم دے ان کا عذر معتبر مانا جائے گا۔

2۔   (الف) جن لوگوں کا کرونا ٹیسٹ مثبت ہے، انہیں طبیب کی رائے کی بنیاد  پر روزہ نہ رکھنے کی اجازت  ہوگی۔

 (ب) جو لوگ ابھی اس میں مبتلا نہیں ہوئے، انہیں روزہ چھوڑنا جائز نہیں، بلکہ احتیاطی تدابیر  اپنائیں اور سحری ، افطار ی میں صحت افزا اور متوازن غذا ئیں استعمال کریں،  جس سے ان کے جسم کا نظام مضبوط اور طاقت ور رہے، اور قوتِ مدافعت  میں کمی نہ آئے ۔

3۔   مریضوں کی دیکھ  بھال پر مامور  ڈاکٹرز اور نرسوں  کو چاہیے    اپنی ڈیوٹی کے اوقات  ایسے منظم کریں کہ ہرشخص کو روزے کی حالت میں کچھ وقت کام کرکے  کچھ  دیر آرام کا موقع مل سکے،  اس سلسلہ میں باہمی مشورہ سے کام لیں  اور ادارے ان کے ساتھ تعاون کریں؛ تاکہ ماہِ مبارک  میں روزہ سے محرومی نہ ہو ، بیماری لگنے کے محض  امکان  یا خدشہ کی وجہ سے روزہ چھوڑنا محرومی کا باعث ہوگا، ایسے وقت میں اللہ پر یقین اور بھروسے کے ساتھ کام کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت روزہ دار کے ساتھ ہوتی ہے، نیز ڈاکٹرز اور نرسوں کو بھی چاہیے کہ سحر و افطار میں مقوی اور صحت افزا غذاؤں کا استعمال رکھیں۔ تاہم اگر  ادارے انہیں مجبورکریں اور خدانخواستہ ایمرجنسی کی  صورت ہو تو وہ شرعاً معذور ہوں گے۔

4۔   تراویح اور عید الفطر کی عبادات کو  کرونا وائرس  کی وجہ سے چھوڑنا جائز نہیں، اس سلسلہ میں جو  احتیاطی تدابیر علماءِ کرام اطباء کے مشورے سے بتا رہے ہیں ان  کو ملحوظ  رکھ کر ان عبادات کو  بجالائیں۔  البتہ یقینی طور پر کرونا وائرس میں مبتلا مریض کو  مسجد میں نماز نہ پڑھنے کے سلسلے میں معذور سمجھا جائے گا کہ وہ  اجتماعی جگہوں پر تراویح یا عید کی  نماز کے لیے جانے سے گریز کریں۔

         صحابۂ  کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اور بعد کے اَدوار میں بھی طاعون وغیرہ کی وبائیں پھیلی ہیں، جن کی ہلاکت خیزی تاریخ کے قاری پر مخفی نہیں ہے، لیکن سلفِ صالحین نے سخت ہلاکت کے مواقع پر بھی مساجد کی بندش اور جمعات بالکلیہ ترک کرنے کے فتاویٰ اور اَحکام صادر نہیں فرمائے، بلکہ ان کے اَدوار میں مساجد کی طرف رجوع مزید بڑھ گیا، جیساکہ  قاضی عبد الرحمن القرشی الدمشقی الشافعی اپنے زمانہ میں 764 ھ کے طاعون سے متعلق لکھتے ہیں:

’جب طاعون پھیل گیا اور لوگوں کو ختم کرنے لگا، تو لوگوں نے تہجد، روزے، صدقہ اور توبہ واستغفار کی کثرت شروع کردی اور ہم مردوں،  بچوں، اور عورتوں نے گھروں کو چھوڑ دیا ہے اور مسجدوں کو لازم پکڑ لیا، تو اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا‘‘۔

اس سلسلہ میں مزید تفصیل کے لیے ہماری ویب سائٹ پر موجود فتوی درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

 

کرونا وائرس (corona virus) کی وجہ سے نمازِ جمعہ چھوڑنے کا حکم اور اس حوالے سے شرعی اَحکام کی راہ نمائی

المبسوط للسرخسی  میں ہے :

"وإذا خاف الرجل وهو صائم إن هو لم يفطر تزداد عينه وجعًا أو تزداد حماه شدةً فينبغي أن يفطر؛ لأن الله تعالى رخص للمريض في الفطر بقوله: {فمن كان منكم مريضًا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] وهذا مريض؛ لأن وجع العين نوع مرض والحمى كذلك، ثم إن الله تعالى بين المعنى فيه فقال: {يريد الله بكم اليسر ولايريد بكم العسر} [البقرة: 185] وفي إيجاب أداء الصوم مع هذا الخوف عسر، فينبغي له أن يأخذ باليسر فيه ويترخص بالفطر قال صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى يحب أن تؤتى رخصه كما تؤتى عزائمه»". (المبسوط للسرخسی : 6/137)

بدائع الصنائع میں ملک العلماء علامہ کاسانی لکھتے ہیں :

"الأعذار المسقطة للإثم، والمؤاخذة فنبينها بتوفيق الله تعالى فنقول: هي المرض، والسفر، والإكراه، والحبل، والرضاع، والجوع، والعطش، وكبر السن، لكن بعضها مرخص، وبعضها مبيح مطلق لا موجب، كما فيه خوف زيادة ضرر دون خوف الهلاك، فهو مرخص وما فيه خوف الهلاك فهو مبيح مطلق بل موجب فنذكر جملة ذلك فنقول: أما المرض فالمرخص منه هو الذي يخاف أن يزداد بالصوم وإليه وقعت الإشارة في الجامع الصغير.

فإنه قال في رجل خاف إن لم يفطر أن تزداد عيناه وجعًا، أو حماه شدة أفطر، وذكر الكرخي في مختصره: أن المرض الذي يبيح الإفطار هو ما يخاف منه الموت، أو زيادة العلة كائنًا ما كانت العلة.

وروي عن أبي حنيفة أنه إن كان بحال يباح له أداء صلاة الفرض قاعدا فلا بأس بأن يفطر، والمبيح المطلق بل الموجب هو الذي يخاف منه الهلاك لأن فيه إلقاء النفس إلى التهلكة لا لإقامة حق الله تعالى وهو الوجوب، والوجوب لا يبقى في هذه الحالة، وإنه حرام فكان الإفطار مباحا بل واجبا وأما السفر فالمرخص منه هو مطلق السفر المقدر، والأصل فيهما قوله تعالى {فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] أي: فمن كان منكم مريضا، أو على سفر فأفطر بعذر المرض، والسفر فعدة من أيام أخر، دل أن المرض، والسفر سببا الرخصة ثم السفر، والمرض وإن أطلق ذكرهما في الآية فالمراد منهما المقيد لأن مطلق السفر ليس بسبب الرخصة لأن حقيقة السفر هو الخروج عن الوطن، أو الظهور، وذا يحصل بالخروج إلى الضيعة ولا تتعلق به الرخصة فعلم أن المرخص سفر مقدر بتقدير معلوم وهو الخروج عن الوطن على قصد مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا عندنا، وعند الشافعي يوم وليلة، وقد مضى الكلام في تقديره في كتاب الصلاة، وكذا مطلق المرض ليس بسبب للرخصة لأن الرخصة بسبب المرض، والسفر لمعنى المشقة بالصوم تيسيرا لهما وتخفيفا عليهما على ما قال الله تعالى: {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر} [البقرة: 185] ومن الأمراض ما ينفعه الصوم ويخفه ويكون الصوم على المريض أسهل من الأكل، بل الأكل يضره ويشتد عليه، ومن التعبد الترخص بما يسهل على المريض تحصيله، والتضييق بما يشتد عليه، وفي الآية دلالة وجوب القضاء على من أفطر بغير عذر؛ لأنه لما وجب القضاء على المريض، والمسافر مع أنهما أفطرا بسبب العذر المبيح للإفطار فلأن يجب على غير ذي العذر أولى، وسواء كان السفر سفر طاعة، أو مباحا، أو معصية عندنا، وعند الشافعي سفر المعصية لايفيد الرخصة،، والمسألة مضت في كتاب الصلاة، والله أعلم، وسواء سافر قبل دخول شهر رمضان، أو بعده أن له أن يترخص فيفطر عند عامة الصحابة، وعن علي وابن عباس - رضي الله عنهما - أنه إذا أهل في المصر ثم سافر لايجوز له أن يفطر، وجه قولهما أنه لما استهل في الحضر". (بدائع الصنائع : ۲/۹۴ )

البحرالرائق میں ہے :

"والجوع والعطش وكبر السن، كذا في البدائع. (قوله: لمن خاف زيادة المرض الفطر)؛ لقوله تعالى: {فمن كان منكم مريضًا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] فإنه أباح الفطر لكل مريض لكن القطع بأن شرعية الفطر فيه إنما هو لدفع الحرج وتحقق الحرج منوط بزيادة المرض أو إبطاء البرء أو إفساد عضو ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة الظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق وقيل عدالته شرط فلو برأ من المرض لكن الضعف باق وخاف أن يمرض سئل عنه القاضي الإمام فقال الخوف ليس بشيء كذا في فتح القدير وفي التبيين والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض ومراده بالخشية غلبة الظن كما أراد المصنف بالخوف إياها". ( البحرالرائق : فصل في عوارض الفطر في رمضان : 2/303) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108201403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں