بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس اور باجماعت نمازوں پر پابندی!


سوال

مہلک امراض کی وبا پھیلنے پر اگر اس ملک کی انتظامیہ درخواست کرے کہ عوامی اجتماعات نہ منعقد کیے جائیں اور یہ درخواست دینی اجتماعات والوں سے بھی ہوں یعنی جمعہ کے اجتماعات بھی نہ کرنے کی درخواست ہو تو آیا ایسی صورت میں شریعت ہمیں کیا حکم دیتی ہے؟ کہ جمعہ نہ ادا کیا جائے یا ادا کیا جائے؟

جواب

                                آج کل "کرونا وائرس" کے نام سے پھیلی ہوئی وبا اور اس سے بچنے کے احتیاطی اقدامات کے بارے میں شرعی احکام سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے:

۱۔جان لیوا وبائی امراض کا سبب اور حکمت

۲۔ کسی بیماری کے متعدی  (ایک سے دوسرے میں منتقل) ہونے کا عقیدہ رکھنے کی شرعی حدود

۳۔جس شہر میں کرونا وائرس (وبا) پھیل جائے، وہاں کے باشندوں پر اس کا شرعی اثر

۴۔ہلاکت کے خوف کی وضاحت

۵۔باجماعت مسجد میں نماز نہ پڑھنے کا عذر

۶۔اصحابِ اقتدار کا جماعت کی نمازوں پر یا صرف جمعہ کی نماز پر پابندی لگانا

۷۔احتیاطی تدابیر و لائحہ عمل

1- جان لیوا وبائی امراض کا سبب اور حکمت

                                              جان لیوا وبائی امراض کی وجہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی اور اللہ کے عذاب سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اعلانیہ گناہوں کی کثرت اور گناہوں کی جرأت ہے۔ اور جب کھل کر کوئی قوم دینی اَحکام میں اجتماعی طور پر غفلت کا شکار ہوجاتی ہے تو اللہ انہیں مختلف طریقوں میں سے کسی طریقے سے ڈرا کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ جان لیوا وبائی امراض میں سے کسی مرض کا پھیل جانا بھی ہے۔

                                     تاہم اگر کوئی ایسی صورت حال میں اسلامی اَحکام کی رعایت رکھےگا تو اس کے لیے یہ عذاب  بھی اللہ کی رحمت بن جائے گا! اس لیے دنیا میں تکلیف اور مصیبت نیک مؤمن پر بھی آتی ہے اور گناہ گار مؤمن اور کافر پر بھی آتی ہے، بعض کے لیے تکلیف و مصیبت رفعِ درجات کا سبب ہوتی ہے، اور بعض کے حق میں گناہوں کی معافی کا ذریعہ اور بعض کے لیے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیاوی پکڑ ثابت ہوتی ہے تاکہ کافر و گناہ گار اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ بیماری یا تکلیف کے رحمت بننے کی علامت یہ ہے کہ بیماری یا تکلیف کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع بڑھ جائے اور عملی زندگی میں اِصلاح اور مثبت تبدیلی آجائے تو یہ رحمت کا باعث ہے، اور اگر شکوہ شکایت، جزع فزع، اور اللہ سے رجوع ہٹ کر صرف دنیاوی اسباب اور غموم و ہموم کی طرف ہوجائے تو یہ آزمائش یا پکڑ کی علامت ہے۔ یہ سب باتیں قرآنِ مجید کی تعلیمات رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ثابت شدہ ہیں۔

                                        کرونا وائرس بھی چوں کہ تجربہ اور واقعات سے کسی حد تک جان لیوا  ثابت ہوا ہے؛ لہذا اس کو بھی جان لیوا وبا قرار دینا درست ہے، چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس جن علاقوں میں پھیلا ہے تو اس علاقے کے لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے  اور انہیں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے پھیلا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8 / 3366):

"عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: " ما ظهر الغلول في قوم إلا ألقى الله في قلوبهم الرعب، ولا فشا الزنا في قوم إلا كثر فيهم الموت، ولا نقص قوم المكيال والميزان إلا قطع عنهم الرزق، ولا حكم قوم بغير حق إلا فشا فيهم الدم، ولا ختر قوم بالعهد إلا سلط عليهم العدو".

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس قوم میں خیانت غالب ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتے ہیں، اور جس قوم میں زنا عام ہوجائے ان میں موت کی کثرت ہوجاتی ہے، اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرے ان کا رزق کم کردیا جاتاہے، اور جو قوم ناحق فیصلے کرتی ہے اس میں قتل عام ہوجاتاہے، اور جو قوم بدعہدی کرتی ہے ان پر دشمن مسلط کردیا جاتاہے۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1 / 230):

"وعموم الأمراض والخوف الغالب من العدو، ونحو ذلك من الأفزاع والأهوال؛ لأن ذلك كله من الآيات المخوفة، والله أعلم".

ترجمہ: امراض کا عام ہونا اور دشمن کے خوف کا غالب آنا اور اس جیسے پریشان کن اور ہول ناک احوال سب کے سب خوف ناک نشانیاں ہیں، واللہ اعلم۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1 / 147):

"لأن ذلك كله من الآيات المخوفة، كما في التبيين، والله يخوف عباده ليتركوا المعاصي ويرجعوا إلى طاعته التي فيها فوزهم وخلاصهم، وأقرب أحوال العبد في الرجوع إلى ربه الصلاة".

ترجمہ: یہ سب خوف ناک نشانیوں میں سے ہیں، جیساکہ تبیین الحقائق میں ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں تاکہ وہ نافرمانیاں چھوڑ کر اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں جس میں ان کی کامیابی اور خلاصی ہے، اور جس حال میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتاہے وہ نماز کی حالت ہے۔

2- کسی بیماری کے متعدی  (ایک سے دوسرے میں منتقل) ہونے کا عقیدہ رکھنے کی شرعی حدود

                                 واضح رہے کہ اس دنیا میں اللہ نے بہت سی چیزوں کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، لیکن حقیقت میں سارے اسباب اپنا اثر دکھانے میں اللہ کے حکم کے پابند ہیں؛ لہذا نبی کریمﷺ نے دو مختلف موقعوں پر ایسا عمل کیا جس سے یہ دونوں باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریمﷺکے پاس ایک مجذوم (جذام کی بیماری والا شخص، جس بیماری کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ پھیلتی ہے) آیا تو آپﷺ نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیمار آدمی سے یقینی طور پر بیماری لگ جانے کا اعتقاد درست نہیں ہے۔ دوسرے موقع پر ایک مجذوم آپﷺ سے بیعت ہونے کے لیے آیا تو نبی کریمﷺ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اسے بیعت کرلیا، بلکہ اسے دور سے ہی پیغام بھجوادیا کہ ہم نے تمہیں بیعت کرلیا ہے،  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کے درجہ میں بیماری کے ظاہری اسباب سے بچناجائز ہے۔

                              مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظاہری سبب کے طور پر پھیلنے والی بیماری کی جگہ یا شخص سے بچنا جائز ہے، تاہم یہ عقیدہ نہ ہو کہ ایسی جگہ میں جانے سے یا رہنے سے یا ایسے شخص کے قرب سے بیماری کا لگنا یقینی ہے۔

چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں :

                   "اہلِ مسلکِ ثانی نے یہ کہا کہ عدوی کی نفی سے مطلقاً نفی کرنا مقصود نہیں؛ کیوں کہ اس  کا مشاہدہ ہے ۔۔۔ مگر اہلِ مسلکِ ثانی نے اس کو خلافِ ظاہر سمجھ کر یہ کہا کہ مطلق عدوی کی نفی اس سے مقصود نہیں بلکہ اس عدوی کی نفی مقصود ہے جس کے قائل اہلِ جاہلیت تھے اور جس کےمعتقدینِ سائنس اب بھی قائل ہیں، یعنی بعض امراض میں خاصیت طبعی لازم ہے  کہ ضرور متعدی ہوتے ہیں،  تخلف کبھی ہوتا ہی نہیں، سو اس کی نفی فرمائی گئی ہے  ۔۔۔الخ" (امداد الفتاوی، ج۴ / ص ۲۸۷)

                 اور اگر کسی علاقے میں کوئی وبا (مثلاً طاعون وغیرہ) پھیل جائے تو اس حوالے سے مختلف کتبِ حدیث میں روایات منقول  ہیں کہ جس جگہ طاعون کا مرض پھیل جائے وہاں جانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، اور جہاں آدمی موجود ہو، اور وہاں طاعون کا مرض پھیل جائے تو ڈر کر وہاں سے بھاگنے سے منع فرمایا۔  یہ روایات صحیح اسناد سے ثابت ہیں، بخاری شریف میں ہے :

"حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعُونُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ. قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا يُخْرِجْكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ". (صحیح البخاری ، باب من انتظر حتی تدفن :۴/۱۷۵، ط: دارطوق النجاة)

                       اسی طرح کی روایت صحیح مسلم ، سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی وغیرہ میں موجود ہے ۔

                       اس کی وضاحت کرتے ہوئے علماءِ کرام نے مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں:

1- جہاں طاعون پھیلا ہو ، وہاں جانے کی صورت میں وبائی مرض کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت  کے سامنے گویا جرأت کا اظہار ہے، اور جہاں موجود ہو  وہاں سے بھاگنا  گویا تقدیر سے بھاگنا ہے جس کاکوئی فائدہ نہیں ہے، اس لیے یہ دونوں کام درست نہیں۔

2- سبب کے درجے میں اگر وبا زدہ علاقے میں جاکر بیماری لگ گئی یا موت آگئی تو لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ وبا کی وجہ سے مرا ہے، حال آں کہ اس کی موت کا وقت متعین تھا، اور وبا میں مبتلا شخص اس علاقے سے نکلا اور اس کی بیماری سبب کے درجے میں دوسرے علاقے کے کسی شخص کو لگ گئی جاہلیتِ اولیٰ کا یہ عقیدہ دوبارہ ذہنوں میں جگہ پکڑے گا کہ بیماریاں ذاتی طور پر متعدی ہوتی ہیں، حال آں کہ یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتاہے، ورنہ پہلے شخص  کو بیماری کس سے متعدی ہوکر لگی؟!

                                بہرحال اس ممانعت کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی اس وبا سے بھاگنا چاہتا ہو تو یہ منع ہے، لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے وبا زدہ علاقے کے رہائشی کو باہر جانا ہو اور اس کا یقین پختہ ہو کہ موت زندگی اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے، وہ کسی جگہ بھی بیماری اور وبا میں مبتلا کرسکتا ہے تو بوجہ ضرورت ایسے علاقے سے جاسکتے ہیں، اسی طرح وبا زدہ علاقے میں اگر کسی کو کام ہو (مثلاً ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیمیں یا دیگر رضاکار خدمت کے لیے جائیں) اور اللہ کی ذات پر پختہ یقین ہو کہ بیماری موت دینے والے اللہ ہیں، تو اختیاری تدابیر استعمال کرتے ہوئے وبا زدہ علاقے میں جاسکتے ہیں۔ 

"وفي رواية أخرى: فلاتدخلوا عليه، أي يحرم عليكم ذلك؛ لأن الإقدام عليه جراءة على خطر وإيقاع للنفس في التهلكة والشرع ناه عن ذلك، قال تعالى: {ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة}. (وإذا وقع ) أي الطاعون ( وأنتم ) أي والحال أنتم ( بها ) بذلك الأرض ( فرارًا ) أي بقصد الفرار ( منه )، فإن ذلك حرام؛ لأنه فرار من القدر وهو لاينفع، والثبات تسليم لما لم يسبق منه اختيار فيه فإن لم يقصد فرارًا بل خرج لنحو حاجة لم يحرم قاله المناوي في التيسير". (عون المعبود ، باب الخروج من الطاعون : ۸/۲۵۵)

اور علماء نے طاعون سے وبا مراد لی ہے:
"الطاعون بوزن فاعول من الطعن عدلوا به عن أصله ووضعوه دالا على الموت العام كالوباء ويقال طعن فهو مطعون وطعين إذا أصابه الطاعون وإذا أصابه الطعن بالرمح فهو مطعون هذا كلام الجوهري. 
 وقال الخليل: الطاعون الوباء". (عون المعبود ، باب الخروج من الطاعون : ۸/۲۵۵)

                                  اس لیے اگر کہیں وبا پھیل جائے تو  اس سے بھاگنے کے بجائے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1711):
" فر من المجذوم فرارك من الأسد " فإنه محمول على بيان الجواز أو لئلا يقع شيء منه بخلق الله فينسب إلى الإعداء بالطبع ليقع في محذور اعتقاد التأثير لغير الله، وقد عمل النبي صلى الله عليه وسلم بالأمرين ليشير إلى الجوابين عن قضية الحديث فإنه جاءه مجذوم فأكل معه قائلا: بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه، وجاءه مجذوم آخر ليبايعه فلم يمد إليه يده وقال: قدبايعت، فأولاً نظر إلى المسبب وثانيًا نظر إلى السبب في مقام الفرق وبين أن كلاًّ من المقامين حق، نعم الأفضل لمن غلب عليه التوكل أو وصل إلى مقام الجمع هو الأول والثاني لغيره".

3- جس شہر میں کرونا وائرس (وباء) پھیل جائے، وہاں کے باشندوں پر اس کا شرعی اثر

                                   اگر کسی شہر میں کرونا وائرس پھیل جائے(العیاذ باللہ) تو جو لوگ اس میں متبلا ہوجائیں، وہ تو شرعاً مریض کے حکم میں ہیں، البتہ جو کرونا وائرس میں یقینی طور پر مبتلا نہ ہوں اور نہ ہی ان کے گھر میں یا محلے میں اس قدر وبا پھیلی ہو  جس سے ان کو بھی وبا میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوجانے کا خوف ہوجائے،تو ایسے لوگ مریض نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے لیے مریضوں والی بیان کردہ رخصتیں ہیں، بلکہ ایسے لوگ صحت مند لوگ ہیں۔ اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس شہر میں کرونا وائرس پھیلا ہی نہ ہو تو ایسے شہر کو لوگ  بھی صحت مند ہیں، مریض نہیں ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 390):

"مطلب حال فشو الطاعون هل للصحيح حكم المريض

(قوله: ومثله حال فشو الطاعون) نقل في الفتح عن الشافعية: أنه في حكم المرض، وقال: ولم أره لمشايخنا اهـ وقواعد الحنفية تقتضي أنه كالصحيح. قال الحافظ العسقلاني في كتابه بذل الماعون: وهو الذي ذكره لي جماعة من علمائهم.

وفي الأشباه: غايته أن يكون كمن في صف القتال فلايكون فارًّا اهـ وهو الصحيح عند مالك، كما في الدر المنتقى.

قال في الشرنبلالية: وليس مسلماً إذ لا مماثلة بين من هو مع قوم يدفعون عنه في الصف وبين من هو مع قوم هم مثله ليس لهم قوة الدفع عن أحد حال فشو الطاعون. اهـ.

قلت: إذا دخل الطاعون محلةً أو دارًا يغلب على أهلها خوف الهلاك كما في حال التحام القتال، بخلاف المحلة أو الدار التي لم يدخلها فينبغي الجري على هذا التفصيل، لما علمت من أن العبرة لغلبة خوف الهلاك، ثم لايخفى أن هذا كله فيمن لم يطعن".

4- ہلاکت کے خوف کی وضاحت

                              شرعی اَحکام میں وہ خوف معتبر ہوتا ہے جو ظنِ غالب کا فائدہ دے،  مثلاً کسی مرگی کے مریض کو تجربہ سے یہ بات معلوم ہو کہ روزہ رکھنے سے اسے مرگی کے دورے پڑتے ہیں تو اب اس کے لیے مرگی کے دورے پڑنے کے خوف سے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہوگی۔ عام طور پر ایسا خوف کسی علامت سے، تجربے سے، یا ماہر مسلمان دِین دار طبیب کے قول سے معلوم ہوتا ہے۔ باقی جو خوف کسی علامت، تجربہ یا ماہر دِین دار طبیب کے قول کے بغیر ہی دل میں پیدا ہو  یا کسی غیر مسلم کے کہنے سے پیدا ہو جس کی تصدیق مسلمان دین دار ڈاکٹر نہ کریں تو اس اندیشے کا شرعاً اعتبار نہیں ہے، بلکہ وہ  خوف توہم پرستی اور بد شگونی کے اعتقاد میں مبتلا کردیتا ہے، جس کی شریعت میں سخت ممانعت ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 422):

"(قوله: بغلبة الظن) تنازعه خاف الذي في المتن وخاف وخافت اللتان في الشرح ط (قوله: بأمارة) أي علامة (قوله: أو تجربة) ولو كانت من غير المريض عند اتحاد المرض ط عن أبي السعود (قوله: حاذق) أي له معرفة تامة في الطب، فلايجوز تقليد من له أدنى معرفة فيه ط (قوله: مسلم) أما الكافر فلايعتمد على قوله: لاحتمال أن غرضه إفساد العبادة كمسلم شرع في الصلاة بالتيمم فوعده بإعطاء الماء فإنه لا يقطع الصلاة لما قلنا بحر (قوله مستور) وقيل عدالته شرط وجزم به الزيلعي وظاهر ما في البحر والنهر ضعفه ط. قلت: وإذا أخذ بقول طبيب ليس فيه هذه الشروط وأفطر فالظاهر لزوم الكفارة كما لو أفطر بدون أمارة ولا تجربة لعدم غلبة الظن والناس عنه غافلون".

شرح معاني الآثار (4 / 310):

"فلما كان النهي عن الخروج عن الطاعون، وعن الهبوط عليه بمعنى واحد، وهو الطيرة، لا الإعداء، كان كذلك قوله: لايورد ممرض على مصح هو الطيرة أيضًا، لا الإعداء. فنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذه كلها، عن الأسباب التي من أجلها يتطيرون".

                            رہا یہ اشکال کہ ماہر اطباء کے بقول کرونا وائرس میں مبتلا شخص پر اس بیماری کے آثار کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتے ہیں؛ لہذا جو شخص ظاہری طور پر صحیح ہے اس سے بھی میل ملاپ کرنا، مصافحہ کرنا وغیرہ سے احتیاط کیا جائے؛ کیوں کہ وہ بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا ایک گونہ احتمال رکھتا ہے۔

                            تو اس کاجواب سمجھنے سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اطباء کا قول صرف مکلف کی کیفیت کی تعیین کے لیے حجت ہے، نہ کہ فقہی اَحکام کی تبدیلی کے لیے حجت ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ شریعت نے اس مریض کے لیے تیمم کی رخصت دی ہے جس کے لیے پانی مضر ہو۔ کسی مکلف کے لیے پانی مضر ہوگا یا نہیں؟  ان دو پہلؤوں میں سے ایک کی تعیین کے لیے تو اطباء کا قول معتبر ہے کہ اگر کسی طبیب حاذق نے کہہ دیا کہ پانی کا استعمال اس کے لیے مضر ہے تو اس کے لیے تیمم جائز ہوجائے گا، لیکن کسی مکلف کے بارے میں طبیب تعیین نہ کرے، بلکہ صرف یہ کہہ دے کہ پانی کا استعمال اس کے لیے مضر ہونے کا غیر یقنی احتمال ہے؛ لہذا یہ تیمم کرلے تو طبیب کے اس قول کی وجہ سے فقہی حکم تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

                            مذکورہ بالا تفصیل کے بعد اشکال کا جواب یہ ہے کہ اگر کرونا وائرس کی واضح علامات کے ذریعے یا کسی معتبر ٹیسٹ کے ذریعے کسی کا اس وائرس میں مبتلا ہوجانا معلوم ہو تو ایسے شخص سے احتیاطی تدبیر کے طور پر دور رہنا تو جائز ہے، لیکن اگر کسی علامت، تجربہ یا ماہر دِین دار طبیب کے قول سے اس کا بیماری میں مبتلا ہونے کی جہت متعین نہ ہو تو  اطباء کے قول کو لے کر اس سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا توہم پرستی شمار ہوگا، نہ کہ احتیاطی تدبیر ؛ کیوں کہ فقہی نکتۂ نظر سے ظاہری صحت مند آدمی کا صحت مند ہونا یقینی ہے، اور وہم یا شک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔

المبسوط للسرخسي (3 / 213):

"وهذا من باب الطب ليس من الفقه في شيء فلم نقل به لهذا".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 147):

"والثابت باليقين لايزول بالشك".

5-باجماعت مسجد میں نماز نہ پڑھنے کا عذر

                        شریعتِ مطہرہ میں مسجد میں باجماعت نماز نہ پڑھنے کا ایک عذر یہ بھی ہے کہ آدمی ایسی حالت میں ہو جس سے انسانوں کو یا فرشتوں کو اس سے اذیت ہو، اسی وجہ سے جس نے نماز سے پہلے بدبودار چیز کھالی ہو تو اسے مسجد نہیں جانا چاہیے۔ فقہاءِ کرام نے ایسے مریض کو بھی اس میں شمار کیا ہے جس سے لوگوں کو طبعی طور پر کراہت و نفرت ہوتی ہو، جیسے جذامی۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں کرونا وائرس کے مریض کو بھی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کے سلسلے میں معذور سمجھا جاسکتا ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

"۔۔۔ان صورتوں  میں خود مجذوم پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں نہ جائے اور جماعت میں شریک نہ ہو اور اگر وہ نہ مانے تو لوگوں کو حق ہے کہ وہ اسے دخول مسجد اور شرکت جماعت سے روک دیں اور اس میں مسجد محلہ اور مسجد غیر محلہ کا فرق نہیں ہے، محلہ کی مسجد سے بھی روکا جاسکتا ہے تو غیر محلہ کی مسجد سے بالاولی روکنا جائز ہے اور یہ روکنا بیماری کے متعدی ہونے کے اعتقاد پر مبنی نہیں ہے، بلکہ تعدیہ کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں ہے، بلکہ نمازیوں کی ایذا یا خوف تلویث مسجد یا تنجیس وباء نفرت و فروش پر مبنی ہے"۔ (ج۳ / ص ۱۳۸، دار الاشاعت)

                                    تاہم جس محلہ میں کرونا وائرس کی وبا  عام نہ ہو تو کرونا وائرس کے ڈر سے جماعت کی نماز ترک کردینا شرعی عذر نہیں ہے، بلکہ توہم پرستی ہے جو کہ ممنوع ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (6 / 146):

"وكذلك ألحق بذلك بعضهم من بفيه بخر، أو به جرح له رائحة، وكذلك القصاب والسماك والمجذوم والأبرص أولى بالإلحاق، وصرح بالمجذوم ابن بطال، ونقل عن سحنون: لاأرى الجمعة عليه، واحتج بالحديث. وألحق بالحديث: كل من آذى الناس بلسانه في المسجد، وبه أفتى ابن عمر، رضي الله تعالى عنهما، وهو أصل في نفي كل ما يتأذى به".

                            اور جس محلہ میں کروا وائرس کی وبا عام ہوجائے تو اس محلہ کے لوگوں کے لیے مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی رخصت تو ہوگی، البتہ اس محلے کے چند لوگوں کو پھر بھی مسجد میں باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنا ہوگا  اور اگر مسجد میں باجماعت نماز پورے محلے والوں نے ترک کردی تو پورا محلہ گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ مسجد کو اس کے اعمال سے آباد رکھنا فرضِ کفایہ ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (37 / 195):

"بناء المساجد وعمارتها ووظائفها

 يجب بناء المساجد في الأمصار والقرى والمحال - جمع محلة - ونحوها حسب الحاجة وهو من فروض الكفاية".

6- اصحابِ اقتدار کا جماعت کی نمازوں پر یا صرف جمعہ کی نماز پر پابندی لگانا

                           مذکورہ بالا تفصیلات سے معلوم ہوا کہ اصحابِ اقتدارکا مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے پر پابندی لگانا جائز نہیں ہے ۔

الفتاوى الهندية (1 / 146):

"الإمام إذا منع أهل المصر أن يجمعوا لم يجمعوا، قال الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى -: هذا إذا نهاهم مجتهدًا بسبب من الأسباب وأراد أن يخرج ذلك الموضع من أن يكون مصرًا، فأما إذا نهاهم متعنتًا أو ضرارًا بهم، فلهم أن يجتمعوا على رجل يصلي بهم الجمعة، كذا في الظهيرية".

البناية شرح الهداية (3 / 78):

"وفي " المرغيناني ": إذا منع الإمام أهل المصر أن يجمعوا لايجمعون، وقال أبو جعفر: هذا إذا منعهم باجتهاد، وأراد أن يخرج تلك البقعة أن تكون مصرًا، فأما إذا نهاهم تعنتًا أو إضرارًا بهم، فلهم أن يجمعوا على من يصلي بهم".

                                     بغیر شرعی عذر کے مساجد کو بند کردینے پر نصوص میں سخت وعید وارد ہوئی ہے اور ان کے اس عمل کو "ظلم" قرار دیا گیا ہے۔

التفسير المظهري (1 / 116):

"منصوب على العلية أي كراهة أن يذكر وسعى في خرابها بالتعطيل عن ذكر الله، فانهم لما منعوا من يعمره بالذكر فقد سعوا في خرابه".

فتح القدير للشوكاني (1 / 153):

"والمراد بالسعي في خرابها: هو السعي في هدمها، ورفع بنيانها، ويجوز أن يراد بالخراب: تعطيلها عن الطاعات التي وضعت لها، فيكون أعم من قوله: أن يذكر فيها اسمه فيشمل جميع ما يمنع من الأمور التي بنيت لها المساجد، كتعلم العلم وتعليمه، والقعود للاعتكاف، وانتظار الصلاة ويجوز أن يراد ما هو أعم من الأمرين، من باب عموم المجاز".

تفسير الألوسي = روح المعاني (1 / 362):

"وكني بذكر اسم الله تعالى عما يوقع في المساجد من الصلوات والتقربات إلى الله تعالى بالأفعال القلبية والقالبية المأذون بفعلها فيها.

وسعى في خرابها أي هدمها وتعطيلها".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 12):

"المسألة الخامسة: السعي في تخريب المسجد قد يكون لوجهين. أحدهما: منع المصلين والمتعبدين والمتعهدين له من دخوله فيكون ذلك تخريبا. والثاني: بالهدم والتخريب".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 13):

"وثانيها: قوله تعالى: {إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر} [التوبة: 18] فجعل عمارة المسجد دليلا على الإيمان، بل الآية تدل بظاهرها على حصر الإيمان فيهم، لأن كلمة إنما للحصر".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 13):

"هذه الآية التي نحن في تفسيرها وهي قوله تعالى: ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه فإن ظاهرها يقتضي أن يكون الساعي في تخريب المساجد أسوأ حالاً من المشرك".

تفسير القرطبي (2 / 77):

"خراب المساجد قد يكون حقيقيًّا كتخريب بخت نصر والنصارى بيت المقدس على ما ذكر أنهم غزوا بني إسرائيل مع بعض ملوكهم، - قيل: اسمه نطوس بن اسبيسانوس الرومي فيما ذكر الغزنوي- فقتلوا وسبوا، وحرقوا التوراة، وقذفوا في بيت المقدس العذرة وخربوه. ويكون مجازًا كمنع المشركين المسلمين حين صدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المسجد الحرام، وعلى الجملة فتعطيل المساجد عن الصلاة وإظهار شعائر الإسلام فيها خراب لها".

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (1 / 75):

"{ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} والمنع يكون من وجهين: أحدهما بالقهر والغلبة، والآخر الاعتقاد والديانة والحكم؛ لأن من اعتقد من جهة الديانة المنع من ذكر الله في المساجد فجائز أن يقال فيه: قد منع مسجدًا أن يذكر فيه اسمه فيكون المنع هاهنا معناه الحظر، كما جائز أن يقال: منع الله الكافرين من الكفر والعصاة من المعاصي بأن حظرها عليهم وأوعدهم على فعلها، فلما كان اللفظ منتظمًا للأمرين وجب استعماله على الاحتمالين".

                                 اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ  باجماعت نمازیں پڑھنا اور بالخصوص جمعہ کی نماز پڑھنا، یہ شعائرِ اسلام میں سے ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 155):

"(وأما) توارث الأمة؛ فلأن الأمة من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا واظبت عليها وعلى النكير على تاركها، والمواظبة على هذا الوجه دليل الوجوب، وليس هذا اختلافًا في الحقيقة، بل من حيث العبارة؛ لأن السنة المؤكدة، والواجب سواء، خصوصًا ما كان من شعائر الإسلام ألا ترى أن الكرخي سماها سنةً ثم فسرها بالواجب؛ فقال: الجماعة سنة لايرخص لأحد التأخر عنها إلا لعذر، وهو تفسير الواجب عند العامة".

الاختيار لتعليل المختار (1 / 57):

" (الجماعة سنة مؤكدة) قال عليه الصلاة والسلام: «الجماعة من سنن الهدى» ، وقال عليه الصلاة والسلام: «لقد هممت أن آمر رجلًا يصلي بالناس ثم أنطلق إلى قوم يتخلفون عن الجماعة فأحرق عليهم بيوتهم»، وهذا أمارة التأكيد، وقد واظب عليها صلى الله عليه وسلم فلايسع تركها إلا لعذر، ولو تركها أهل مصر يؤمرون بها، فإن قبلوا وإلا يقاتلون عليها لأنها من شعائر الإسلام".

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1 / 133):

"(قوله: قال عامة مشايخنا: إنها واجبة إلى آخره) وفي مختصر البحر المحيط: الأكثر على أنها سنة مؤكدة، ولو تركها أهل ناحية أثموا ووجب قتالهم بالسلاح؛ لأنها من شعائر الإسلام. وفي شرح خواهر زاده: سنة مؤكدة غاية التأكيد. اهـ. غاية، قال الكمال: وقيل: الجماعة سنة مؤكدة في قوة الواجب اهـ وممن قال بأنها سنة مؤكدة الكرخي والقدوري، ويدل على أن المراد أنها في قوة الواجب قول صاحب التحفة فيما ذكر محمد في غير رواية الأصول أنها واجبة، وقد سماها بعض أصحابنا سنة مؤكدة وهما سواء، وقول صاحب البدائع: لا خلاف في الحقيقة، وإنما الاختلاف في العبارة لا غير؛ لأن السنة المؤكدة والواجب سواء خصوصًا فيما إذا كان من شعائر الإسلام ألاترى أن الكرخي سماها سنة، ثم فسرها بالواجب، فقال: الجماعة لايرخص لأحد التأخير عنها إلا بعذر وهو تفسير الواجب عند العلماء".

البناية شرح الهداية (1 / 114):

"(شعائر الشرع وأحكامه) ش: الشعائر مفعول أظهر. وهو جمع شعارة، وقال الأصمعي: جمع شعيرة، وإليه مال السراج، والأولى هو الأول؛ لأن الشعيرة واحدة الشعير الذي هو من الحبوب؛ والشعيرة أيضا: البدنة تهدى. والشعارة كل ما جعل علما لطاعة الله تعالى. قال الجوهري: الشعائر: أفعال الحج، وكل ما جعل علما لطاعة الله عز وجل. ويقال: المراد بها: ما كان أداؤه على سبيل الاشتهار، كأداء الصلاة بالجماعة".

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1 / 84):

"[حكم صلاة الجماعة]

(قوله: الجماعة سنة مؤكدة هو الأصح) وفي شرح بكر خواهر زاده أنها مؤكدة غاية التأكيد. وفي الغاية: لو تركها أهل ناحية أثموا ووجب قتالهم بالسلاح؛ لأنها من شعائر الإسلام إلا أن يتوبوا".

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 510):

"الخامس من شروط صحة الجمعة: "الإذن العام" كذا في الكنز لأنها من شعائر الإسلام وخصائص الدين".

احتیاطی تدابیر و لائحہ عمل

                                      اسلام میں سب سے پہلے پھیلنے والی عمومی وباء حضرت عمرؓ کے زمانے میں تھی جس کو "طاعونِ عمواس" کہا جاتا ہے۔ اس طاعون میں جہاں عمومی اَموات ہوئیں، وہیں شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ بھی اس میں شہید ہوگئے۔ ان کی وفات  کے اگلے گورنر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ  نے سب سے پہلی نصیحت جو لوگوں کو  کی، وہ سچی توبہ کی نصیحت تھی، اس کے بعد لوگوں کے حقوق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے قرض خواہ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا، اور قطع تعلقی کرنے والوں کو اپنے بھائیوں سے مل کر مصافحہ کرنے کی تلقین بھی کی۔ اس صنیع سے معلوم ہوتا ہے کہ وباء دور کرنے میں معاملات و معاشرتی اعمال کی اصلاح کو بہت بڑا دخل ہے۔

الفتوح لابن أعثم (1 / 238):

"ذكر الطاعون الذي وقع بالشام ومن مات هنالك من المسلمين ...

قال: ثم التفت أبو عبيدة إلى معاذ بن جبل فقال: أبا عبد الرحمن! صلّ بالناس رحمك الله! فقد استخلفتك عليهم من بعدي. قال: ثم توفي أبو عبيدة رحمة الله عليه بالأردن من أرض الشام، وبها قبره.

قال: وقام معاذ بن جبل بعد أبي عبيدة بأمور المسلمين، فخطب الناس بعد وفاة أبي عبيدة فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أيها الناس! توبوا إلى الله توبة نصوحًا، فليس من عبد يلقى الله وهو غير تائب من ذنبه إلا كان حقيقًا على الله أن لايغفر له إلا أن تتداركه الرحمة، وانظروا! من كان عليه منكم دين فليقضه، فإن العبد مرتهن بدينه، ومن أصبح منكم مهاجرًا لأخيه المسلم فليلقه وليصافحه، فإنه لاينبغي للمؤمن أن يهجر أخاه أكثر من ثلاثة أيام".

                              نیز فقہاءِ کرام نے عمومی مرض پھیل جانے پر انفرادی دو رکعتیں پڑھنے کو مستحب لکھا ہے۔

البناية شرح الهداية (3 / 149):

"وقال إسحاق: يصلون بعد العصر ما لم تصفر الشمس وبعد صلاة الصبح ولو كسفت في الغروب لم يصل إجماعًا من جنس الكسوف مثل الريح الشديد والظلمة الهائلة بالنهار والثلج والأمطار الدائمة والصواعق والزلازل وانتشار الكواكب والضوء الهائل بالليل وعموم الأمراض، وغير ذلك من النوازل والأهوال والأفزاع، إذا وقعت صلوا وحدانًا، واسألوا وتضرعوا، وكذا في الخوف الغالب من العدو".

                                     چنانچہ مسجدوں کو ان کے اعمال سے آباد رکھنا، معاملات و معاشرتی اعمال کی اصلاح کرنا، انفرادی و اجتماعی طور پر رجوع الی اللہ کرنے کے ساتھ ساتھ اطباء کی ان تدابیر کو بھی اختیار کرنا چاہیے جن کی وجہ سے کوئی شرعی قباحت لازم نہ آتی ہو۔

                              اگر حکومت کی جانب سے باجماعت نمازوں پر پابندی لگادی جائے تو  ایک طرف یہ کوشش جاری رکھنی چاہیے کہ انہیں اسلامی اَحکام کے بارے میں آگاہ کریں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ وہ پابندی ہٹادیں۔ اور جب تک پابندی رہے تو خوفِ ظلم کی وجہ سے اور لوگوں سے حرج کی نفی کے پیشِ نظر مسجد کی نماز چھوٹ جانے کا عذر معتبر ہے۔ ایسی صورت میں کوشش کرے کہ گھر پر ہی باجماعت نماز کا اہتمام ہو۔ اور جمعہ کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہذا شہر، فنائے شہر یا بڑی بستی میں اگر امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مرد مقتدی ہوں اور نماز پڑھنے والوں کی طرف سے دوسرے لوگوں کو نماز میں شرکت سے منع نہ کیا جائے تو جمعہ کی نماز قائم کی جائے، جمعہ کا وقت ہوجانے کے بعد  پہلی اذان دی جائے اور اس کے بعد سنتیں ادا کرکے دوسری اذان دی جائے، امام خطبہ مسنونہ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھا دے،  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمعہ ہو کر پڑھ لیں۔

الفتاوى الهندية (1 / 148):

"(ومنها الجماعة) وأقلها ثلاثة سوى الإمام".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 154):

"(قوله: وعدم خوف) أي من سلطان أو لص، منح".

جمعہ کا مسنون خطبہ جامعہ کی درج ذیل لنک میں ملاحظہ کریں :

جمعہ کا خطبہ

تاہم جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط موجود ہونے کی صورت میں بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا گناہ ہے، اور اگر کسی نے ظہر پڑھ ہی لی تو اس سے وقت کا فریضہ ساقط ہوجائےگا۔ اور اگر جمعے کی شرائط مکمل نہ ہوں تو شہر میں ظہر کی نماز تنہا ادا کی جائے۔

المبسوط للسرخسي (2 / 25):

"وأما الإساءة فلتركهم أداء الجمعة بعد ما استجمعوا شرائطها، وفي حديث ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك ثلاث جمع تهاونًا بها طبع على قلبه»". فقط والله أعلم

مزید راہ نمائی کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

کرونا وائرس اور دیگر وبائی امراض میں مسلمانوں کے لیے راہ نمائی


فتوی نمبر : 144107200654

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں