بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر پر چڑھانے کی نیت سے ترکہ کی رقم سے دوکان لی، زکاة کا حکم کیا ہوگا؟


سوال

میرے والد کو وراثت میں پندرہ (۱۵) لاکھ روپے ملے تھے تو ہم نے ان پیسوں میں اور پیسے ملاکر اپنا گھر خریدنے کا ارادہ کیا مگر ہم کو گھر نہ مل سکا تو ہم نے اس کی جگہ ایک دکان قسطوں  پر لے لی جو ہمیں شعبان کے مہینے میں دینے کا کہہ رہا ہے بلڈر، اب اس دوکان کے پیسوں میں میری والدہ اور بیوی کے زیور کے  پیسے بھی شامل ہیں اور میں نے اپنے آفس سے بھی قرض لے کر  لگایا اور ہمارا  یہ ارادہ ہے کہ ہم اس دوکان کو کچھ وقت تک کرائے پر دے کر اپنے گھر کا کرایہ ادا کریں گے اور جب اچھے پیسے ملیں گے تو ہم اس کو فروخت کر کے ان شاءاللہ تعالیٰ اپنا گھر لیں گے،  تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس دوکان پر زکاۃ ہو گی یا نہیں؟ اور اگر ہوگی تو کس طریقہ سے نکالی جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب دوکان کی خریداری کے وقت کرایہ پر چڑھانے کی نیت ہے تو  اس دکان کی ویلیو پر زکاۃ واجب نہ ہوگی، کرایہ حاصل ہونے کے بعد اگر مصارف میں خرچ ہوجاتاہے تو اس پر بھی زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے