بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر دیے گئے مکان کی زکاۃ


سوال

جو مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے اور اس کا کرایہ استعمال کرتے ہیں اس پر زکاۃ ہوگی؟

1- گھر کی کل قیمت پر زکاۃ ہوگی؟

2- جو رینٹ کی رقم آتی ہے کیا اس پر زکاۃ ہوگی؟

جواب

جو مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے اس کی مالیت پر زکاۃ واجب نہیں۔ البتہ اس کی آمدن یعنی کرایہ کی رقم اگر پس انداز ہونے کی صورت میں نصاب کے برابر ہو یا دیگر مال کے ساتھ نصاب بنتا ہو تو  زکاۃ کا سال پورا ہونے پر زکاۃ واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے