بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کتنے عرصے تک باہر ملک میں بیوی سے الگ رہ سکتے ہیں؟


سوال

ہم اپنی بیوی سے کتنےوقت تک الگ  باہر ملک میں رہ سکتے ہیں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے آپس میں ایک دوسرے سے دور رہنے کی کوئی مدت مقرر نہیں، شوہر جتنا عرصہ بھی اپنی بیوی سے دور رہے اس سے اُن کے رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ہاں! اگر کوئی شخص اس طرح  قسم کھا لے کہ اللہ کی قسم! میں چار ماہ تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا تو ایسی صورت میں اگرچارماہ گزرگئے اورشوہرنے رجوع نہ کیاتوایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور اس کو شریعت میں "ایلاء"  کہتے ہیں، لیکن "ایلاء" کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ  جب شوہر باقاعدہ مذکورہ الفاظ کہے، اس کے علاوہ "ایلاء" کے انعقاد کے لیے مزید چار  شرائط ہیں:

1۔ "ایلاء"  اپنی بیوی سے کیا جائے، اجنبی عورت کو مذکورہ الفاظ کہنے سے "ایلاء" واقع نہیں ہو گا۔

2۔ شوہر عاقل و بالغ ہو، بچہ و مجنون نہ ہو۔

3۔ کسی ایک خاص جگہ کا ذکر نہ کرے یعنی یوں نہ کہے کہ میں اپنے گھر میں تیرے قریب نہیں آؤں گا، اگر ایک جگہ کا ذکر کر دیا تو "ایلاء"  نہ ہو گا۔

4۔ چار ماہ میں سے کسی ایک دن کا استثنا نہ کرے، اگر کسی دن کا استثنا کر دیا تو یہ "ایلاءِ شرعی" نہ ہو گا۔

اگر مذکورہ شرائط پائی جائیں گی تو  "ایلاء" منعقد ہو جائے گا اور چار ماہ بیوی کے قریب نہ جانے کی صورت میں چار ماہ بعد  ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔

"ایلاء"  کی مدت چار مہینے مقرر ہونے میں حکمت یہ ہے کہ اتنی مدت میں  نفس کو جماع کا شوق لازمی پیدا ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو چھوڑنا بھی چاہے اور اُس کے لیے "ایلاء"  کرے تو چار ماہ تک رجوع کا حق حاصل ہو گا۔ اور "ایلاء"  کرنے کی صورت میں چار ماہ دور رہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

اور اگر شوہر نے "ایلاء" نہ کیا ہو پھر بھی  اس پر بیوی کے کچھ حقوق ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے، اور ایک دوسرے سے دور رہنے کی صورت میں اُن کا فوت ہونا لازم آتا ہے جو نکاح کی مصلحت کے خلاف ہے، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا، اصولی بات یہ ہے کہ جتنے عرصے میں بیوی کے خیال کے فساد کا اندیشہ ہو اس مدت میں ملنا بیوی کا حق ہے، اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عموماً اپنی افواج کی تشکیل چار ماہ کی کردی تھی، لہٰذا چار ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے ایک دوسرے سے دور  رہنا مناسب نہیں، بہرحال اتنی مدت یا اس سے زیادہ دور رہنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں