بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو القعدة 1441ھ- 13 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کام کا جذبہ بڑھانے کے لیے ڈھول باجے بجانا


سوال

عموماً  گاؤں دیہات میں گھاس کاٹتے وقت یا لکڑیاں کاٹتے وقت یا کسی اور اجتماعی کام کرنے کے لیے گاؤں کے لوگوں کو جب جمع کیا جاتا ہےتو ایسے مواقع پر ڈھول اور باجے  بجائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ڈھول باجے کی وجہ سے لوگوں میں کام کا جذبہ پیدا  ہوتاہے اور پھر اچھی طرح کام کرتے ہیں ، شرعاً ایسے مواقع پر ڈھول باجا بجانے کی اجازت ہے؟جب کہ وہاں کے بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔

جواب

کام کا جذبہ بڑھانے کے لیے بھی ڈھول اور باجے بجانا جائز نہیں ہے۔ البتہ ایسے موقع پر موسیقی کے آلات کا استعمال کیے بغیر نظم، اشعار، تقاریر وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو کام پر ابھارا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں