بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کالج کے ہاسٹل میں عدت گزارنے اور عدت میں امتحانات دینے کے لیے گھر سے نکلنے کا حکم


سوال

 سلیمان(فرضی نام) نے اپنی بیوی (جو کالج میں پڑھتی تھی اس) کو طلاق دی، اب سلیمان کی طلاق شدہ بیوی کے کالج میں امتحانات بھی ہیں، اور  اگر وہ سلیمان کےگھر میں عدت گزارے گی تو اس کےلیے شرعی مشکلات ہوتی ہیں، اپنے ماں باپ کےگھر میں بھی مسائل ان کے لیےپیدا ہورہے ہیں، اب کیا سلیمان کی طلاق شدہ بیوی اپنی عدت کالج کے ہاسٹل میں گزارسکتی ہے یانہیں؟ اور امتحانات کےلیے باہر نکل سکتی ہے یا نہیں؟ 

جواب

۱۔مطلقہ  کے لیے عدت اپنے شوہر کے گھر میں ہی گزارنا لازم اور ضروری ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سلیمان کی بیوی کے لیے شوہر کا گھر چھوڑ کر کالج کے ہاسٹل میں عدت گزارنا جائز نہیں ہے، شوہر کے گھر میں کیا شرعی مشکلات پیش آرہی ہیں اس کی وضاحت ہونے کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ آیا مذکورہ عورت کے لیے کسی دوسری جگہ عدت گزارنا جائز ہے یا نہیں۔

۲)عدت کے دوران عورت کے لیے کسی شدید مجبوری (مثلاً:  نان نفقہ کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں اس کا انتظام کرنے کے لیے باہر نکلنا) کے بغیر باہر نکلنا جائز نہیں ہے، اور کالج میں امتحانات دینا شرعاً مجبوری نہیں ہے؛ اس لیے مذکورہ عورت کا امتحانات دینے کے لیے عدت میں گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 535):

"(ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج، معراج (لو حرةً) أو أمةً مبوأةً ولو من فاسد (مكلفةً من بيتها أصلاً) لا ليلاً ولا نهاراً ولا إلى صحن دار فيها منازل لغيره ولو بإذنه؛ لأنه حق الله تعالى.

 (قوله: أو على السكنى) قال الزيلعي: فكان كما اختلعت على أن لا سكنى لها، فإن مؤنة السكنى تسقط عن الزوج، يلزمها أن تكتري بيت الزوج، ولايحل لها أن تخرج منه اهـ ومثله في الفتح: أي لأن سكناها في بيته واجبة عليها شرعاً فلاتملك إسقاطها بل تسقط مؤنتها. وظاهره أنه لايلزم التصريح بمؤنة السكنى بل مجرد الخلع على السكنى مسقط لمؤنتها كما نبهنا عليه في باب الخلع، تأمل.

(قوله: لو حرةً) أما غيرها فلها الخروج في عدة الطلاق والوفاة، إذ لايلزمها المقام في منزل زوجها في حال النكاح فكذا بعده، ولأن الخدمة حق المولى فلايجوز إبطالها إلا إذا بوأها منزلاً فحينئذ لاتخرج وله الرجوع، ولو بوأها في النكاح ثم طلقت فللزوج منعها من الخروج حتى يطلبها المولى كما في البحر. (قوله: أو أمةً مبوأةً) أي أسكنها المولى في بيت زوجها ولم يطلبها كما علمت. (قوله: ولو من فاسد) أي ولو كانت المدة من نكاح فاسد، وهذا مستفاد من قوله بأي فرقة كانت كما بيناه ح. (قوله: مكلفة) أخرج الصغيرة والمجنونة والكافرة. ففي البحر عن البدائع: أما الأوليان فلا يتعلق بهما شيء من أحكام التكاليف، وأما الكتابية فلأنها غير مخاطبة بحق الشرع، ولكن للزوج منع المجنونة والكتابية صيانة لمائه، وكذا إذا أسلم زوج المجوسية وأبت الإسلام. اهـ. وفيه عن المعراج وشرح النقاية: المراهقة كالبالغة في المنع من الخروج وكالكتابية في عدم وجوب الإحداد اهـ أي لاحتمال علوقها منه قبل الطلاق فله منعها تحصينا لمائه. (قوله: من بيتها) متعلق بقوله ولا تخرج، والمراد به ما يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت هداية، سواء كان مملوكاً للزوج، أو غيره، حتى لو كان غائبا، وهي في دار بأجرة قادرة على دفعها فليس لها أن تخرج بل تدفع وترجع إن كان بإذن الحاكم بحر وزيلعي. (قوله: أصلاً) تعميم لقوله: لاتخرج، وبينه بقوله: لا ليلاً ولا نهاراً. (قوله: فيها منازل لغيره) أي غير الزوج، بخلاف ما إذا كانت له فإن لها أن تخرج إليها وتبيت في أي منزل شاءت؛ لأنها تضاف إليها بالسكنى، زيلعي. (قوله: ولو بإذنه) تعميم أيضاً لقوله: ولاتخرج، حتى إن المطلقة رجعياً وإن كانت منكوحةً حكماً لاتخرج من بيت العدة. ولو بإذنه؛ لأن الحرمة بعد العدة حق الله تعالى فلايملكان إبطاله، بخلاف ما قبلها؛ لأنها حق الزوج فيملك إبطاله، بحر".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے