بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کافر کی میت کو غسل دینا


سوال

کیا کسی کافر  یا مشرک کی میت کو غسل دیا جاسکتا ہے؟

جواب

جو کافر مرتد نہیں بلکہ شروع ہی سے کافر تھا اور اسی حالت میں مرگیا  تو اگر اس کا کوئی رشتہ دار  اس کا ہم مذہب موجود ہو تو بہتر یہ ہے  کہ اس کی لاش اسی کے لیے چھوڑدی جائے؛ تاکہ وہ جس طرح چاہے اسے دفن وغیرہ کرے، اگر اس کا کوئی رشتہ دار اس کے مذہب کا نہ ہو تو اس کے مسلمان رشتہ داروں پر اس کا غسل وکفن دفن واجب تو نہیں ہے، البتہ ان کے لیے اتنا جائز ہے کہ مسلمانوں کے غسل ، کفن اور دفن کا جو مسنون طریقہ ہے اس کی رعایت  کیے بغیر  اسے ناپاک کپڑے کی طرح دھو کر کسی کپڑے میں لپیٹ کر کسی گڑھے میں دبادیں۔(احکام میت ص45،ادارۃ الفاروق)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 230):
"(ويغسل المسلم ويكفن ويدفن قريبه) كخاله (الكافر الأصلي) أما المرتد فيلقى في حفرة كالكلب (عند الاحتياج) فلو له قريب فالأولى تركه لهم (من غير مراعاة السنة) فيغسله غسل الثوب النجس ويلفه في خرقة ويلقيه في حفرة.

(قوله: ويغسل المسلم) أي جوازا لأن من شروط وجوب الغسل كون الميت مسلمًا. قال في البدائع: حتى لايجب غسل الكافر؛ لأن الغسل وجب كرامة وتعظيمًا للميت، والكافر ليس من أهل ذلك (قوله: قريبه) مفعول تنازع فيه الأفعال الثلاثة قبله (قوله: كخاله) أشار إلى أن المراد بالقريب ما يشمل ذوي الأرحام، كما في البحر (قوله: الكافر الأصلي) قيده القهستاني عن الجلابي في باب الشهيد بغير الحربي ط (قوله: فيلقى في حفرة) أي ولايغسل، ولايكفن؛ ولايدفع إلى من انتقل إلى دينهم، بحر عن الفتح (قوله: فلو له قريب) أي من أهل ملته (قوله: من غير مراعاة السنة) قيد للأفعال الثلاثة، كما أفاده بالتفريع بعده". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں