بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کارٹون وغیرہ کے ذریعہ بچوں کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سکھانے کا حکم


سوال

آج کل بچوں کو سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سکھانے کے لیے کارٹون وغیرہ کے ذریعے فلم بنائی جاتی ہے، جس سے توہین مقصود نہیں ہوتی، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

نبی کریم ﷺ کی سیرت کا سیکھنا اور سکھانا انتہائی اہم، باعثِ ثواب اور بابرکت عمل ہے، ہر ایک مسلمان کو چاہیے (خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا)  کہ وہ پیارے نبی ﷺ کی سیرت طیبہ معلوم کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالے۔ لیکن دین سے متعلق کسی بھی چیز کو سیکھنے، سکھانے اور پھیلانے کے لیے   جو ذرائع استعمال ہوں ان کا بذاتِ خود جائز ہونا اور خلافِ شرع نہ ہونا شرط اور ضروری ہے، جب کہ جان دار کی تصویر کے متعلق   رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہےکہ: ’’قیامت کے روز سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۹۵۰)

اس کے علاوہ اور بھی متعدد احادیث میں نبی کریم ﷺ نے جان دار کی  تصاویر کی مذمت فرمائی ہے، اور تصاویر کو ختم کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

لہذا سیرتِ طیبہ کا سیکھنا تو ضروری ہے، لیکن  سیکھنے کے لیے جائز طریقہ کا انتخاب اس سے بھی زیادہ ضروری ہے، چوں کہ  تصویر  بنانا اور دیکھنا دونوں ناجائز ہیں، اس لیے  تصویر سازی  یعنی کارٹون وغیرہ کی ویڈیو اور فلم سازی کے ذریعہ سے سیرتِ طیبہ سیکھنا اور سکھانا جائز نہیں ہے، اس ساری تفصیل سے یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ   اگرچہ سیرت سے متعلق اس کارٹون کی تصویر میں نبی کریم ﷺ کی توہین مقصود نہ بھی ہو، لیکن تصویر بنانا تو ایک ناجائز عمل ہے، نیز کسی غلط اور ناجائز ذریعہ اور راستے سے نبی ﷺ کی سیرت کے سیکھنے اور سکھانے میں اگرچہ توہین مقصود نہ ہو، لیکن یہ عمل خود آں حضرت ﷺ کی بے ادبی ہے، بایں طور کہ جس چیز سے آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اس پر وعیدیں سنائیں، اسی وسیلے اور طریقے سے آپ کی سیرت سکھانے کی کوشش کی جائے۔

خلاصہ یہ کہ اس طرح کے کارٹون کا بنانا اور دیکھنا سب ناجائز اور حرام ہے۔

سیرت کے مضمون پر بچوں کے لیے متعدد کتابیں دست یاب ہیں، بچوں کو ایسی کتابوں کے مطالعہ کا ذوق دلایا جائے، اس طرح سیرت کی معلومات بھی حاصل ہوں گی، اور گناہوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔ قصص الانبیاء (مصنفہ: امۃ اللہ تسنیم) نبیوں کی سچی کہانیاں (از سید رضی الدین فخری رحمہ اللہ) قصص النبیین مترجم وغیرہ کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

 حدیث شریف میں ہے:

’’عن أبي طلحة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تدخل الملائكة بيتاً فيه صورة»‘‘. (صحيح البخاري: كتاب بدء الخلق، رقم:3226،  ص: 385، ط: دار ابن الجوزي. صحيح مسلم: كتاب اللباس والزينة، رقم:206،  ص: 512، ط: دار ابن الجوزي)

’’عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون»‘‘. (صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب عذاب المصورين، رقم:5950،  ص: 463، ط: دار ابن الجوزي)

فتاوی شامی میں ہے:

’’قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى. وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ‘‘. (حاشية ابن عابدين: كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، 1/647، ط: سعيد)

بلوغ القصدوالمرام میں ہے:

’’يحرم تصوير حيوان عاقل أو غيره إذا كان كامل الأعضاء، إذا كان يدوم، وكذا إن لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ. ويحرم النظر إليه؛ إذا النظر إلى المحرم لَحرام‘‘. (جواہر الفقہ، تصویر کے شرعی احکام: ۷/264-265، از: بلوغ  القصد والمرام، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں