بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں لگانے کے لیے رقم دینا


سوال

میں ایک شخص کو چلتی ہوئی دکان میں ایک لاکھ روپے دکان بڑھانے کے لیے دے رہا ہوں کہ دکان کے نفع و نقصان میں دونوں میں شریک ہوں گا، پھر چند مہینوں یا سال کے بعد اپنی رقم کا تقاضا کروں اور وہ کہہ دے کہ نقصان کوئی نہیں ہوا، یہ اپنا ایک لاکھ روپے واپس لے لو ، کیا شریعت کی رو سے جائز ہوگا ؟

جواب

اگر آپ مذکورہ شخص کو ایک لاکھ روپے کاروبار میں لگانے کے لیے دیں اور اس رقم سے حاصل ہونے والے حقیقی منافع میں سے ہر ایک کے حصہ کا تناسب بھی طے ہوجائے (یعنی صرف فرضی نفع کے نام پر آپ کو اس رقم کے بدلہ ماہانہ طے شدہ نفع نہ ملے، بلکہ حقیقت میں جتنا نفع جس مہینے میں ہو اسی میں سے طے شدہ فیصد کے حساب سے ملے)، اور نقصان کی صورت میں بھی آپ اس نقصان میں شریک ہوں تو یہ صورت شرعاً درست ہے، جب تک آپ دونوں یہ معاہدہ جاری رکھنا چاہیں تو جاری رکھیں اور جب آپ یہ معاہدہ ختم کر کے اپنے پیسے واپس لینا چاہیں اور نقصان نہ ہونے کی بنا پر مذکورہ شخص آپ کو پورے پیسے واپس کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200682

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے