بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم


سوال

کیا اسلامی بینک کے ڈیبٹ کارڈ پر جو سہولیات ملتی ہیں، جیسے:  کسی دکان پر 10% ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے، اگر آپ میزان بینک کے ڈیبٹ کارڈ سے قیمت ادا کریں، تو کیا یہ سہولت لینا جائز ہے؟ 

جواب

ڈیبٹ کارڈ پرملنے والے ڈسکاؤنٹ کودیکھا جائے کہ یہ ڈسکاؤنٹ بینک (خواہ اسلامی بینک ہو یا روایتی بینک) کی طرف سے ہے یا جس ادارے سے  چیز خریدی جارہی ہے(مثلاً: ہوٹل یاشاپنگ مال وغیرہ) یہ رعایت اُس ادارے  کی جانب سے ہے،  اگر بینک کی طرف سے ڈسکاؤنٹ مل رہاہو تو یہ شرعاً سود کے زمرے میں شامل ہونے کی  بنا پر ناجائزہوگا،اور اگرمتعلقہ ادارے کی طرف سے یہ رعایت مل رہی ہو تو جائز ہے۔ ایک تیسری صورت ہے کہ نہ تو بینک ڈسکاؤنٹ دیتا ہے نہ متعلقہ ادارہ (شاپنگ مال، یا ریسٹورنٹ وغیرہ) بلکہ جو ادارہ ڈیبٹ کارڈ بناتا اس کی طرف سے ڈسکاؤنٹ ملتاہے، اگر ایسی صورت ہو اور اس ادارے کے کل معاملات یا اکثر معاملات حلال کام اور حلال آمدن پر مشتمل ہوں تو بھی اس ڈسکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

البتہ اگر یہ واضح نہ ہو کہ ڈسکاؤنٹ بینک طرف سے ہے یا متعلقہ ادارے کی جانب سے یا تیسرے ادارے کی جانب سے تب احتیاط اسی میں ہے کہ اس سہولت کو استعمال نہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں