بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے سود پونے پر ایک اشکال کا جواب


سوال

کسی مستفتی نے آپ سے ایک سوال کیا تھا کہ:

ڈیبٹ کارڈ پر ایک خاص قسم کا discount ملتا ہے مثلا اگر kfc سے کھانا لیا اور ادائگی hmb کے کارڈ سے کی تو %10 discount .اس discount کا کیا حکم ہے؟  

آپ نے اس کا جواب یوں دیا تھا:

ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے کی صورت میں، اس استعمال کی ادائیگی، بینک اس کھاتے (account)سے کرتا ہے جو کھاتہ ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والے نے بینک میں کھولا ہوتا ہے، اور اس کھاتے کا حکم قرض کا ہے۔ کسی کمپنی کا مخصوص ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے پر استعمال کرنے والے کو مالی رعایت (discount) کا ملنا، مخصوص بینک میں کھاتہ کھولنے کا فائدہ تھا۔ یہ قرض دینے پر حاصل ہونے والا فائدہ ہے۔ جب کہ قرض پر کسی قسم کا اضافی فائدہ سود ہوتا ہے، اس لیے یہ مالی رعایت سود کے حکم میں ہو گی اور جائز نہ ہوگی۔

مجھے اس جواب کے متعلق سمجھنا تھا کہ ڈیبٹ کارڈ میں تو کٹوتی بینک میں موجود اکاؤنٹ سے ہوتی ہے۔ تو یہ تو اے ٹی ایم کارڈ ہے جو اصل میں بینک سے رقم نکلوانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ کسی بھی وقت اے ٹی ایم مشین سے پیسے اس کارڈ کی مدد سے نکل سکتے ہیں۔اور پیسے بھی اتنے ہی نکلیں گے جتنے جمع کروائے گئے ہیں۔ یعنی اس میں قرض والا معاملہ نہیں ہے۔اس طرح کسی دکان سے خریداری کریں گے اور پھر رقم کی ادائیگی اس ڈیبٹ کارڈ سے کی جائے گی۔ وہ رقم فورا اس اکاؤنٹ سے کاٹ لی جائے گی۔  اب اگر کسی کے اکاؤنٹ میں دس ہزار روپے ہیں اور اس نے پانچ ہزار کی شاپنگ کی۔ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کر لیا۔ اب پانچ ہزار پانچ سو کے لیے وہ کارڈ استعمال کیا جائے تو ڈیبٹ کارڈ استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔کریڈٹ کارڈ کا استعمال اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہاں قرض لیا جاتا ہے، بینک آپ کی طرف سے رقم ادائیگی کرتا ہے  اور اس پر سود وصول کیا جاتا ہے۔

 

جواب

آپ سے یہ بات سمجھنے میں چوک ہورہی ہے کہ جو پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں آپ نے جمع کیے ہیں، ان کی حیثیت قرض کی ہے۔ اس اکاؤنٹ کے کھولنے ہی کی بنا پر آپ کو ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے، اور اسی کو محولہ بالا فتوے میں قرض پر ملنے والا نفع اور سود شمار کیا گیا ہے۔ ڈیبٹ کارڈ کا مطلقا استعمال ٹھیک ہے، البتہ یہ ڈسکاؤنٹ سود کے حکم میں ہونے کی بنا پر ٹھیک نہیں ہے۔ جب کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال مطلقا درست نہیں ہے۔ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں حکم کا یہ فرق، اسی بنیادی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہے جس کا ذکر آپ نے سوال میں کیا ہے۔


فتوی نمبر : 143611200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں