بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈسٹری بیوٹر کے علاوہ کا مال خریدنا


سوال

کمپنی کسی صوبے یا ضلع کی ڈسٹری بیوشن بناتی ہے، اور ان کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی شخص بیچنے یا سیدھا کمپنی سے لینے کا مجاز نہیں؛ کیوں کہ اس سے ڈسٹری بیوشن کو مال اور قیمت مقرر کرنے کا نقصان ہوتا ہے. اور اگر دوسرے کا اس طرح مال پکڑا گیا تو ان کا سارا مال بند کر دیا جائے گا.شریعت کی رو  سے اس دوسرے بندے کا خلافِ تجارت و مروت عمل کیسا ہے?

جواب

جن لوگوں سے کمپنی نے کسی خاص علاقے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے کہ ہم آپ کو ہی مال دیں گے آپ کے علاوہ اس علاقے کے دیگر لوگوں کو مال نہیں دیں گے اور اس علاقے کا کوئی دوسرا بندہ اس کمپنی سے مال لیتا ہے تو یہ خرید و فروخت شرعاً درست ہے، تاہم کمپنی والوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی خاص شخص کو ہی مال بیچیں، لیکن اگر وہ کسی اور کو بیچیں تو یہ خرید و فروخت شرعاً درست ہے، اور دوسرے خریدار کا آگے فروخت کرنا بھی درست ہے، اس کی طرف سے کوتاہی بظاہر نہیں پائی جارہی، تاہم کمپنی کے ذمہ داران کو وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا اور وعدہ خلافی کرکے کمانے سے برکت بھی کم یا ختم ہوگی. اس لیے اگر مختلف ایجنسیز کو مال سپلائی کرنا چاہتے ہوں تو ابتدا سے کسی سے معاہدہ نہ کریں کہ ہم آپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیں گے، بلکہ عمومی سودا کرلیا کریں؛ تاکہ وعدہ خلافی کے گناہ سے بچیں۔

ڈسٹری بیوشن کا مال ضبط یا بند کرنا جائز نہیں.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے