بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

چیک کے ذریعہ سونے کی خرید وفروخت کا حکم


سوال

بینک کا چیک دے کر سونا خریدنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

سونے کو نقدی کے بدلے بیچنا ہو تو اسی مجلس میں دونوں طرف قبضہ شرعا ضروری ہوتا ہے،چیک نقدی کے حکم میں نہیں ہوتا بلکہ نقدی کی رسید ہوتا ہے، یوں سونے کے بدلے چیک دینے کی صورت میں سودا ایک طرف سے ادھار ہوجاتا ہے، اس لیے یہ صورت جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143802200011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں