بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

چچا کا مقام و ادب


سوال

والد کے انتقال کے بعد والدہ کا نکاح میرے چچا کے ساتھ ہو اہے، ان کاادب مقام وحق بھی والد کی مانند ہے؟

جواب

جس طرح شریعت نے والدین کے حقوق کی بجا آوری اوران کی تابع داری و فرماں برداری کاحکم دیاہے اسی طرح خاندان کے قریبی رشتوں کے بھی احترام اور ان کے حقوق کی پاس داری کوبھی لازم قرار دیاہے، قریبی رشتوں میں سے ایک رشتہ چچا کا بھی ہے، والدکی موجودگی میں بھی چچامثلِ والد کے ہوتاہے اور اس کا ادب وحترام بھی والد کے ادب واحترام کی مانند کرنا ضروری ہے، نیز جب یہی چچا سوتیلے والد کی جگہ بھی لے لیں تو اس صورت میں ان حق اور مقام مزید بڑھ جاتاہے۔احادیثِ مبارکہ سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ حسنِ  سلوک وحقوق کے لحاظ میں چچا والد جیسامقام رکھتے ہیں۔

چنانچہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے :

" عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ".

ترجمہ :''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت عباس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔ اور چچا باپ کی طرح ہوتا ہے۔ ''۔

مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے :

" اور حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ بہز کے دادا (حضرت معاویہ ابن صدہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ!میں کس کے ساتھ بھلائی اور نیک سلوک کروں؟ حضور  ﷺ نے فرمایا:  اپنی ماں کے ساتھ میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ  نے فرمایا:  اپنی ماں کے ساتھ ،میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ ؟آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر اس کے ساتھ جو ماں باپ کے بعد تمہارا قریب تر عزیز ہے۔( جیسے بہن بھائی پھر اس کے ساتھ جو ان بھائی بہن کے بعد اوروں میں زیادہ قریبی عزیز ہے جیسے چچا اور ماموں اور اسی ترتیب کے مطابق چچاؤں اور ماموں کی اولاد وغیرہ) (ترمذی، ابوداؤد)

مشکاۃ شریف کی دوسری روایت میں ہے :

'' حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن ) میں رسولِ  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ غصہ میں بھرے ہوئے آئے (یعنی کسی نے کوئی ایسی حرکت کر دی تھی یا کوئی اسی بات کہہ دی تھی جس سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو غصہ آ رہا ہے؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بولے:  اے اللہ کے رسول ! ہمارے (یعنی بنی ہاشم ) اور (باقی) قریش کے درمیان کیا (بیگانگی ) ہے کہ جب وہ (قریش ) آپس میں ملتے ہیں تو کشادہ روئی سے ملتے ہیں اور جب ہمارے ساتھ ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے،  رسولِ  کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی تو ان قریش کے اس برے رویہ پر) سخت غصہ ہوئے، یہاں تک کہ غصہ کی شدت سے آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، پھر ) حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوگا اگر وہ تم (اہلِ بیت ) کو اللہ اور اللہ کے رسول کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے دوست نہیں رکھے گا ۔" اور پھر فرمایا:  لوگو ! جان لو ) جس شخص نے خصوصاً ) میرے چچا کو ستایا اس نے (گویا ) مجھ کو ستایا ، کیوں کہ کسی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے ''۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے