بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

چپس کے پیکٹ میں انعام رکھنا اور دوکان دار کو انعام دینا


سوال

1- ہمارا چپس کا کاروبار ہے، چپس بناتے ہیں، پھر مارکیٹ میں سیل کرتے ہیں، اپنی  پروڈکٹ کو چلانے کے لیے کچھ انعامی طریقے بھی اپناتے ہیں، ہم چپس کے کچھ پیک میں ٹوکن رکھتے ہیں، ۲۴ پیک میں ۵ ٹوکن ڈال دیتے ہیں، جب بچے چپس خرید کرتے ہیں، تو جس کا بھی ٹوکن نکلتا ہے اس کو ۵روپے انعام دیا جاتا ہے، کیا یہ صورت جائز ہے؟  یا چپس کے اندر ٹوکن کے بجائے ۵روپے رکھے جائیں؟

2- جو دوکان دار ہمارے چپس کے ۲۰ بنڈل خرید کرتا ہے اس دوکان دار کو بھی انعام میں واٹرکولر گھڑیال واچ دیتے ہیں، جتنا دوکان دار زیادہ بنڈل خرید کرے گا اتنا زیادہ انعام دیا جائے، ۵۰ بنڈل پر استری ۱۰۰ بنڈل پر سولر فین، اس طرح دوکان دار کو بھی انعام دیے جاتے ہیں، کیا یہ طریقہ انعام دینے کا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ کمپنی کا  اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانےکے لیے ذکر کردہ انعامی سلسلہ شروع کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ درست ہے:

الف: مذکورہ کمپنی نے سامان کی قیمت اتنی ہی مقرر کی ہو جو کہ مارکیٹ میں ایسے سامان کی رائج ہو، یعنی اس سامان کی عام قیمت میں انعام کی بنا پر اضافہ نہ کیا ہو، اگرانعامی اسکیم کی بنا پر مارکیٹ ریٹ (ثمن مثل) سے زیادہ ریٹ (قیمت) رکھے گا تو گویا خریدار (گاہک) انعام کی امید اور لالچ میں اس کمپنی  سے سامان مہنگے داموں خرید رہا ہے، جب کہ انعام کا ملنا یقینی نہیں، بلکہ موہوم ہے، اس طرح یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

ب: کمپنی پروڈکٹ کا معیار بھی کم نہ کرے اوراس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات کے نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی انعام  کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے کی طرف راغب نہ کرے۔

ج: اگر انعام نقدی کی صورت میں دیا جائے تو پراڈکٹ کی قیمت اس میں موجود نقد انعام سے زیادہ ہونا ضروری ہے، ورنہ سود کا تحقق ہوگا۔

چنانچہ اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو  کمپنی  کا ٹوکن کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا  اس کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک (کسٹمر) کے لیےاس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا۔

2۔ کمپنی کا دوکان داروں کو زیادہ چپس کے بنڈل خریدنے پر انعام دینا شرعاً درست ہے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقال قوم من أهل العلم: القمار كله من الميسر وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لايخطئ بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار ... ولأن معنى إيسار الجزور أن يقول من خرج سهمه استحق من الجزور كذا فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقاً على الحظر".

(المائدة:۹۰ ، باب تحریم الخمر، ج:4/ 127 ،ط:دار إحیاء التراث العربي، بیروت)

    مصنف ابن ابی شیبہ  ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر". 

(کتاب البیوع و الأقضیة، البیض الذي یقامر فیه، ج4/ 483 ،مکتبة الرشد الریاض)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص". (کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع، ج:6/ 403 ،ط:سعید)

 (و) صح (الزيادة في المبيع)

(رد المحتار، کتاب البیوع 5 / 155 ط: سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201816

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں