بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی سے پانی حاصل کرنا


سوال

جن گھروں میں دن میں 12-13 گھنٹے چوری کی بجلی استعمال کی جاتی ہو اس گھر کا پانی پینا، چاۓ پینا یا کھانا کھانا جائز ہے؟ کیوں کہ ٹنکی میں پانی جس وقت بھرا جاتا ہے اس وقت چوری والی بجلی استعمال کی جا رہی ہوتی ہے، یا اگر ٹنکی بھرتے وقت کبھی چوری والی بجلی استعمال کی جاتی ہو کبھی جائز بجلی استعمال کی جاتی ہو، پھر پانی کو فلٹر کرتے وقت بجلی چوری والی استعمال کی جاۓ تو اس صورت میں کیا پانی پینا یا اس پانی سے بنی چاۓ وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

بجلی  کی چوری تو بہر صورت حرام ہے، اس کو استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔

نیز اس کی وجہ سے جوپانی اس موٹر سے آیا ہے یا اس بجلی سے فلٹر ہوا ہے اس میں بھی  ایک درجہ کا خبث ہے،لیکن وہ پانی پاک اور حلال  ہے اس کو ضائع نہ کریں، البتہ جتنی بجلی استعمال کی ہے اس کی رقم ادا کرنا واجب ہے، اس کے بعد  اس کا پینا جائز ہے۔

"لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك الغیر بغیر إذنه". (قواعد الفقه،  ص: ۱۱۰) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے