بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی استعمال کرنا جائز نہیں


سوال

اگر ایک شخص بجلی چوری کرتا ہے اور اس چوری کی بجلی پر ہیٹر چلاتا ہے اور اس کے ذریعے کھانا پکاتا ہے تو  جو چیز چوری کی بجلی کے ذریعے پکا کر کوئی کھاتا ہے، کیا یہ کھانا کھانا اس کے لیے جائز  ہے یا مکروہ یا حرام؟ اور  اس کی وجہ سے عبادات کا کیا حکم ہے یعنی بجلی چوری پر پانی گرم کرکے نماز وغیرہ پڑھنے  کا کیا حکم ہے؟

جواب

چوری کی بجلی استعمال کرنا، شرعاً نا جائز و  حرام ہے، نیز چوری کی بجلی سے گرم کیے گئے پانی سے وضو کرنا بھی جائز نہیں، اور چوری کی بجلی سے کھانا پکا کر کھاتا ہے تو ایسا کھانا کھانے کی بھی اجازت نہیں۔

"آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں ہے:

’’چوری کی بجلی سے پکا ہوا کھانا کھانا اور گرم پانی سے وضو کرنا

س… ہم دُنیا والے دُنیا میں کئی قسموں کی چوریاں دیکھتے ہیں۔ مولانا صاحب! لوگ سمجھتے ہیں کہ بجلی کی چوری، چوری نہیں ہوتی۔ کیا چوری والی بجلی کی روشنی میں کوئی عبادت قبول ہوسکتی ہے؟ چوری کی بجلی سے چلنے والا ہیٹر پھر اس ہیٹر سے کھانا پکانا چاہے وہ کھانا حلال دولت کا ہو، کیا وہ کھانا جائز ہے؟ ہمارے شہر کے نزدیک ایک مسجد شریف میں گیزر (پانی گرم کرنے کا آلہ) بالکل بغیر میٹر کے ڈائریکٹ لگا ہوا ہے، مسجد والے نہ اس کا الگ سے کوئی بل ہی دیتے ہیں، لوگ اس سے وضو کرکے نماز پڑھتے ہیں، کیا اس گرم پانی سے وضو ہوجاتا ہے؟ جواب ضرور دینا، مہربانی ہوگی۔

ج… سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح جرم ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی چوری حرام ہے، بلکہ سرکاری اداروں کی چوری کسی خاص فرد کی چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ ایک فرد سے تو آدمی معاف بھی کراسکتا ہے، لیکن آٹھ کروڑ افراد میں سے کس کس آدمی سے معاف کراتا پھرے گا؟ جو لوگ بغیر میٹر کے بجلی کا استعمال کرتے ہیں وہ پوری قوم کے چور ہیں۔ مسجد کے جس گیزر کا آپ نے ذکر کیا ہے اگر محکمے نے مسجد کے لیے مفت بجلی دے رکھی ہے، تو ٹھیک، ورنہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی چور ہے اور اس کے گرم شدہ پانی سے وضو کرنا ناجائز ہے۔ یہی حکم ان تمام افراد اور اداروں کا ہے جو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں‘‘۔ ( ٧ / ١٨٦) 

تاہم  اگر کسی نے ایسے گرم پانی سے وضو کرکے نماز ادا کرلی تو نماز  اگرچہ ہوجائے گی، تاہم استعمال شدہ بجلی کا بل ادا کرنا ضروری ہوگا، اور یہی حکم کھانے کا بھی ہے کہ اگر کھانا کھالیا تو جتنی بجلی چوری کی ہے اگر اس کے بل کا علم ہے تو وہ بل ورنہ اندازا لگاکر کچھ زائد رقم ادا کرنا ضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے