بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اجتماع کے لیے کیے گئے چندے سے بچ جانے والی رقم کا حکم


سوال

ہمارے یہاں اجتماع تھا تو ایک وقت کا کھانا ہماری مسجد کے ذمہ تھا، جس میں عورتوں نے اندر اندر چندہ جمع کیا اور کھانا پکایا. اب پوچھنا یہ ہے کہ انہی پیسوں میں سے کچھ پیسے بچے ہیں تو ان کا کیا کیا جائے؟ دو تین ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ اس کو جماعتوں کے کھانےمیں خرچ کیا جائے یا آگے دوسرے علاقے کا دوسرا اجتماع آتا ہے اس میں خرچ کیا جائے۔  آیا ان دونوں باتوں میں سے کس پر عمل کرنا درست ہے؟ اور اگر دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا تو ان پیسوں کا کیا کیا جائے؟

جواب

جن  خواتین نے چندہ دیا ہے ان کی اجازت سے سوال میں مذکور دونوں میں سے کسی بھی مصرف میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ (فتاوی محمودیہ396/12) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200103

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے