بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

چاندی کا سیٹ استعمال نہ کرنے اور کسی کو دینے کی نیت کرنے سے اس پر وجوب زکات کا حکم


سوال

میر ے پاس ایک سونے کا اور ایک چاندی کا سیٹ ہے تو اگر میں یہ نیت کرلوں کہ چاندی کا سیٹ میں کسی کو دوں گی آئندہ خود استعمال نہیں کروں گی تو کیا تب بھی زکاۃ واجب ہوگی،  جب کہ سونے کے سیٹ کی اتنی مالیت نہیں کہ اس پر زکاۃ واجب ہو ؟ 

جواب

جب تک چاندی کا سیٹ آپ کی ملکیت ہے، اس وقت تک اس کی زکاۃ آپ پر واجب ہوگی، بشرطیکہ  سونے اور چاندی (دونوں) کے سیٹ ملاکر (یا نقدی بھی موجود ہے تو ان سب کی) مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ بنتی ہو۔  آئندہ استعمال نہ کرنے اور کسی اور کو دینے کی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔

ہاں اگر کسی کو مالک بناکر دے دیں اور آپ کی ملکیت میں صرف سونے کا سیٹ ہے، اس کے علاوہ ضرورت سے زائد رقم یا مالِ تجارت نہیں ہے تو اس وقت آپ پر زکاۃ نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200824

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے