بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چار ماہ سے پہلے عذر کی وجہ سے اسقاط حمل کیوں جائز ہے؟


سوال

آپ کے فتویٰ نمبر  143909200454  میں پڑھا کہ شدید ابتر حالات میں جب کہ حمل 120 دن سے کم کا ہو تو اسقاطِ حمل جائز ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض ماں کی صحت کی خرابی کے باعث مستند مسلمان ڈاکٹر  120 دن سے کم کے حمل کے اسقاط کی تجویز دے تو اسقاط کیوں جائز ہے؟  حال آں کہ ماں کی صحت کی خرابی کے باعث کسی بھی حادثہ کی توقع کرنا محض گمان ہے۔  مزید یہ کہ  120 دن سے کم کا حمل بھی زندہ ہی تو ہے کیوں کہ اس کی ہر لمحہ پرورش ہو رہی ہے اور عقلی طور سے بھی وہ زندہ  کہ  روح 120 دن کی عمر میں آتی ہے تو یہ کیا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے بچہ بےجان تھا؟ اس طرح چاہے ایک دن کا بھی حمل ہو کسی بھی صورت میں اسقاط کرنا بچے کو قتل کرنے کے مترادف ہونا چاہیے۔ مزید برآں زنا کے  حمل کو بھی 120 دن سے کم میں اسقاط کرنا بچے کو قتل کرنے میں داخل ہے؟

جواب

انسانی تخلیق کے مختلف مراحل ہیں، سب سے پہلے وہ نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے، پھر  چالیس دن بعد  وہ ”علقہ“  یعنی جمے ہو خون کے  لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے، پھر اس کے بعد  چالیس دن بعد ”مضغہ“ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے، اور ایک سو بیس دن بعد یعنی چار ماہ گزرنے کے  بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، پھر اس کے بعد اس کی ہڈیاں بنتی ہے ، پھر ہڈیوں پر گوشت پہنایا جاتا ہے، یہ ترتیب وار تخلیقِ  انسانی کی کیفیات ہیں جنہیں اللہ تعالی نے سورۂ مؤمن (آیت 14) میں بیان فرمایا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ چار ماہ سے پہلے اگرچہ تخلیق تو ہوتی ہے، لیکن وہ ظاہر نہیں ہوتی  اور نہ ہی اس میں روح  ہوتی ہے،  اس لیے اسے انسان نہیں کہا جاسکتا،  ہاں مستقبل کے اعتبار سے وہ انسان ہوگا۔

ایسی صورت میں   اگر  ماں کی جان کو  حمل سے  خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو ، یا  حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے جس  سے پہلے بچہ کو نقصان ہو یا زنا سے حمل ہوگیا ہو اور اس سے کسی شدید فتنہ کا اندیشہ ہو  وغیرہ جیسے اعذار کی بنا پر  حمل  میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    حمل  کو ساقط کرنے کی گنجائش ہے، گنجائش کا یہ مطلب ہے کہ کرلیا تو گناہ نہیں ہوگا، اس لیے ایک تو حمل اب تک انسانی شکل میں نہیں ہے، اور دوسرا دیگر خارجی اعذار ایسے ہیں کہ ان میں نقصان زیادہ ہے، اور اگر کوئی عذر نہ ہو تو چار ماہ سے پہلے بھی حمل ساقط کرنا جائز نہیں ہوگا، اس لیے کہ مالاً اور مستقبل میں وہ ایک جان بن جائے گا، جیسے فقہاء نے لکھا ہے کہ حالتِ احرام میں اگر کوئی شخص کسی پرندہ کا انڈا توڑدے  اس کا ضمان لازم آتا ہے، اس لیے کہ وہ مستقبل میں جاکر پرندہ ہی بن جائے گا، جب وہاں جزا  لازم آتی ہے تو یہاں اگر کوئی چار ماہ سے پہلے  حمل بغیر عذر کے ساقط کرادے تو  اسے بھی گناہ ہوگا، اگرچہ وہ گناہ انسانی قتل کے بقدر نہ ہوگا۔

اور اگر حمل چار ماہ کا ہوجائے تو اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، اب ایک محترم جان ہے، اس کو ساقط کرنا قتلِ انسانی کے مترادف ہے، لہذا روح پھونکنے کے بعد کسی صورت حمل ساقط کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

       فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز، وإن كان غير مستبين الخلق يجوز، وأما في زماننا يجوز على كل حال، وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة: سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور؟ فقال: أما في الحرة فلايجوز قولاً واحداً، وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه، والصحيح هو المنع، كذا في التتارخانية ….  امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لايستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان".            (5 / 356، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، کتاب الکراہیۃ، ط؛ رشیدیہ)

         فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح". (3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط؛ سعید)

الموسوعة الفقهیة الکویتیة (۳۰/ ۲۸۵):

"وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے