بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پیشاب یا مذی کا قطرہ براہ راست کپڑے پر لگنے اور پانی میں مکس ہوکر لگنے کا حکم


سوال

ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ ناپاکی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر پیشاب کا قطرہ، مذی کا قطرہ ڈائریکٹ کپڑے پر لگ جائے اور اگر یہ پانی میں مکس ہو کر ان کی چھینٹ پڑجائے؟

جواب

پیشاب یا مذی وغیرہ کا قطرہ چاہے براہِ راست کپڑوں پر لگے یا پانی میں مکس ہونے کے بعد اس ناپاک پانی کا قطرہ کپڑوں پر لگ جائے، دونوں صورتوں میں کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔ اور اسے پاک کرنے کا وہی طریقہ ہے کہ اسے تین مرتبہ اچھی طرح دھوکر پاک کیا جائے، ہر مرتبہ دھونے کے بعد اسے نچوڑا جائے کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں