بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے قطروں کے مریض کے لیے کپڑے بدلنے کا حکم


سوال

ہمارے ایک عزیز کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں تو کیا اب اس کو بار بار کپڑے تبدیل کرنا پڑیں گے? اگر ٹشو پیر سے قطرے  خشک ہوتے ہوں تو وہ ٹشو پیر  کا استعمال کر کے  نماز پڑھ  سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے عزیز کو  پیشاب کے قطرے آنے کی ایسی بیماری ہو کہ کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں پاک اور باوضو ہو کر اس وقت کی فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر  نہ ملے، یعنی درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکیں  تو وہ   شرعاً معذور کہلائیں گے۔

 شرعی معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلے اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہے فرائض اور نوافل ادا کرے اور تلاوت قرآن کریم کرلے (خواہ اس ایک وقت کے درمیان قطرے جاری رہیں، دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی) یہاں تک کہ وقت ختم ہوجائے، جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا تو  وضو بھی ختم ہوجائے گا اور پھر اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔
اور اگر یہ قطرے کپڑوں پر لگے ہوئے ہوں تو اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ وہ کس تسلسل سے نکل رہے ہیں  اگر اتنا وقفہ ملتاہو کہ کپڑادھوکرنماز پڑھے تو نماز کے درمیان میں وہ دوبارہ ناپاک نہ ہوتا ہو تب تو اس کے ذمے دھونا واجب ہوگا ، اوراگر یہ حالت ہو کہ کپڑا دھو کر نماز پڑھنے کے درمیان وہ پھرناپاک ہوجاتا ہو تو دھونا واجب  نہیں ہوگا۔

اور اگر ان قطروں میں  مقدارِ نماز کے برابر تسلسل نہیں ہے یعنی   پیشاب کے قطرے کچھ دیر آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہوجاتا ہے کہ جس میں فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے  تو ایسی صورت میں وہ  شرعاً معذورین میں شامل نہیں ہے،اس صورت میں ان قطروں کے آںے سے وضو  ٹوٹ جائے گا اور کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے اور ان کا دھونا (جب کہ وہ مقدارِ درہم سے تجاوز کرجائیں) واجب ہوگا، اس صورت میں آپ کے عزیز کو چاہیے کہ نماز سے کافی پہلے ہی پیشاب کر کے فارغ ہوجائیں اور اس کے بعد پیشاب کے قطروں کے خارج ہونے تک انتظار کریں، جب قطرے بند ہوجائیں اور اطمینان حاصل ہوجائے تو پھر اس کے بعد وضو کرکے نماز ادا کریں۔

اس کی  بہتر صورت یہ  ہوسکتی ہے کہ  وہ  نماز کے بعد استنجا  کرنے کی عادت بنائے، اور انڈروئیر کا استعمال کرے، اور استنجا کرنے کے بعد  انڈروئیر میں ٹشو پیپر  رکھ لے، تاکہ کچھ وقت بعد اگر قطرے  آئیں وہ ٹشو پیپر پر لگیں، بعد ازاں جب نماز کا وقت ہوتو وہ ٹشو نکال لے، پھر اگر پیشاب کے قطرے نکلنے کی جگہ سے دائیں بائیں بھی لگے ہوں تو پانی سے بھی استنجا کرے، اور اگر پیشاب کے قطرے دائیں بائیں کہیں نہیں لگے بلکہ شرم گاہ سے نکل کر ٹشو میں ہی جذب ہوگئے تو پانی سے دھونا ضروری نہیں ہے، اگر سہولت ہو تو پانی سے دھو بھی لے، ورنہ ویسے ہی وضو کرکے نماز ادا کرلے، اس سے آسانی ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ ابتداءً شرعی عذر ثابت ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ مکمل نماز کا وقت بغیر عذر کے نہ گزرے، لیکن جب ایک مرتبہ شرعی معذور بن جائے تو پھر ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ ناقضِ وضو (مثلاً: قطرے جاری ہونا) پایا جانا کافی ہے، ہاں اگر کسی نماز کا مکمل وقت اس ناقضِ وضو (قطروں) کے بغیر گزر جائے تو شرعی معذور نہیں رہتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201177

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے