بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے بعد منی نکلنے میں شک ہو تو غسل کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

اگر جماع نہ کیا ہو اور عام حالت میں پیشاب وغیرہ کرتے ہوئے شک ہو کہ منی کے قطرے نکلے ہیں یا نہیں تو  کیا شک کی صورت میں غسل فرض ہو گا یا نہیں؟

جواب

غسل فرض ہونے کے لیے منی (سفید گاڑھے مادہ) کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر جسم سے باہر نکلنا ضروری ہے، اس طرح اگر منی نکلتی ہے تو غسل فرض ہو جاتا ہے، اور پیشاب سے پہلے یا بعد میں جو گاڑھے قطرے عام طور پر نکلتے ہیں وہ منی کے بجائے ودی کے قطرے ہوتے ہیں، پس مسئولہ صورت میں پیشاب کے وقت اگر منی کے (یعنی سفید گاڑھے)  قطرے نکلتے ہیں تو چوں کہ وہ شہوت کے بغیر نکلتے ہیں اس لیے غسل فرض نہیں ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے:

’’فرض الغسل عند خروج المني موصوف بالدفق و الشهوة عند الانفصال عن محله‘‘. (كتاب الطهارة، [ المعاني الموجبة للغسل] ١/ ٥٥، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200764

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں