بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

پیسوں کے ذریعہ ایڈز (اشتہارات) کے پیکج خریدنے کے بعد اسے دیکھ کر پیسے کمانے کا حکم


سوال

 zeebucks.com کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی گئی  ہے ۔جو کہ ایڈز(اشتہارات) شو کر رہے ہیں، جو بندہ اس میں شامل ہوجاتا ہے،  اور وہ ایڈ پر کلک کرتا ہے اور اسے کئی سیکنڈ دیکھتا ہے; تو اس کے بدلے میں اسے پیسہ ملتا ہے، پر کلک تقریباً 2 روپے یا اس سے زیادہ ملتا ہے۔ ایڈز کے بارے علماء کرام کے فتوے آئے تھے کہ جائز چیز  کی ایڈورٹائزمنٹ سے پیسہ کمانا جائز ہے ، جیسا کہ اگر کوئی بندہ حلال کام کا ایڈ چلا رہا ہو  یا  جو اس کا ایڈ چلائے اسے پیسہ دیتا ہو تو جائز ہے۔اور اگر ناجائز چیزجیسے شراب وغیرہ کا چلا رہا ہو  یا اس سے کما رہا ہو تو ناجائز ۔

برائے کرم یہ بھی بتائیں  اب بات یہ ہے کہ zeebucks.com جو   پہلے ایڈز کلکنگ پر پیسہ دے رہا تھا، لیکن اب اگر کوئی بندہ ایڈز دیکھ کر پیسہ کمانا چاہتاہے تو وہ پہلے مہینے میں پیکج خریدے گا۔اور پھر اسے اپنے پیکج کے حساب سے پر ایڈ کلکنگ کی کمائی ملے گی،  اگر کوئی بندہ 1000کا پیکج خریدے گا تو اسے ہر روز 20 ایڈز  دیے جائیں گے، اور اس پر کلک کرنے سےپر ایڈ 2 روپیہ اور ٹوٹل 40 روپے ملیں گے ۔اور مہینے کے آخر 10 دنوں 60 ایڈز ایسے ملتے ہیں جن کو کلک کرنے پر آپ کو تقریبا 1200 روپے ملتے ہیں۔یہ ٹوٹل 2400روپیہ بنتا ہے۔ ہر پیکج کا ویلڈیٹی 60 دن تک کا ہوتا ہے۔ یعنی 1000کا پیکج خرید کر آپ کو  دن میں کم و بیش تقریباً روپے کے لگ بھگ ملیں گے ۔اور اسی طرح آپ کے پاس جس درجہ کا پیکج اس کے حساب سے آپ کو کمائی ملے گی، زیادہ مہنگے پیکج سے آپ کو زیادہ منافع ہو جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ zeebucks.com سے پیکج خرید کرایڈز دیکھ کر جو کمائی ملے کیا یہ سود تو نہیں؟  اگر یہ سود ہے تو میں نے مثال کے طور پر 10000 کا پیکج خریدا تھا ۔تو کیا میں ابھی اپنی دی ہوئی  رقم واپس کرنے کے  لیے کام کر سکتا ہوں کہ میں ایڈز دیکھ کر اپنے 10000 ہزار روپے بنا لوں اور اس کے بعد چھوڑ دوں کیا ایسا ٹھیک ہوگا یا نہیں؟

جواب

سوال میں مذکورہ طریقہ کار  پر کام کرکے پیسہ کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

  1. اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، جیسا کہ آپ ویڈیو میں مختلف اشتہار دیکھتے ہیں۔  بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے اور خریدنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔
  2.  جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو، اور کسی کی بھی ہو، بلا ضرورت  اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس محنت کرنے  پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔
  3. مزید یہ کہ آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی اس ویب سائٹ پر اس قسم کی کوئی وضاحت موجود ہے کہ  لی جانے والی رقم کس مد میں لی جاتی ہے؟ اگر یہ محض پیکج کی قیمت ہے تو اس پیکج کے خریدنے کا حکم گزر چکا۔ اور اگر یہ کسی قسم کی سرمایہ کاری ہے،تو اس رقم سے کون سا  کاروبار کیا جاتا ہے؟ یہ بھی واضح نہیں۔ اس  لیے یہ بظاہر  سودی لین دین ہی کی ایک شکل ہے۔  لہٰذا  حلال کمائی کے لیے کسی بھی  ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے  کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔البتہ ایڈز (اشتہارات) دیکھ کر آپ اتنے پیسے وصول کر سکتے ہیں جتنے آپ نے جمع کروائے تھے، جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

شعب الإيمان (2/ 434):

" عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ ".

ترجمہ:آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟تو آپ ﷺنے فرمایا: آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (7/ 2112):

" قوله: ((مبرور)) أي مقبول في الشرع بأن لايكون فاسدًا، أو عند الله بأن يكون مثابًا به".

شامی(6/ 63):

"مطلب في أجرة الدلال، قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم .

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام".

الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 290):

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لا يستحق به أجرة . ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً ؛ لأنه انتفاع بمحرم ... ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها ، ولا على حمل الخنزير". 

نوٹ: آپ نے سوال میں یہ بات ذکر کی کہ ’’ایڈز کے بارے علماء کرام کے فتوے آئے تھے کہ جائز چیز  کی ایڈورٹائزمنٹ سے پیسہ کمانا جائز ہے ، جیسا کہ اگر کوئی بندہ حلال کام کا ایڈ چلا رہا ہو  یا  جو اس کا ایڈ چلائے اسے پیسہ دیتا ہو تو جائز ہے۔اور اگر ناجائز چیزجیسے شراب وغیرہ کا چلا رہا ہو  یا اس سے کما رہا ہو تو ناجائز ۔‘‘ اس حوالے سے وضاحت ضروری ہے کہ یہاں دو الگ الگ مسئلے ہیں:

(1) ایک یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی پروڈکٹ کا کسی (اخبار، رسالے، یا ویب سائٹ وغیرہ) کو اشتہار دیتاہے، اور  اشتہار دینے والے  اور اشتہار شائع کرنے والے کے درمیان ایک عقد طے پاتاہے،  اس صورت کے حوالے سے جامعہ ہٰذا سے فتاویٰ جاری ہوئے ہیں کہ اگر اس عقد میں کوئی شرعی خرابی (تصویر، ناجائز چیز کا اشتہار وغیرہ وغیرہ) نہ ہو تو یہ جائز ہے۔ تفصیل جاری شدہ فتاویٰ میں دیکھی جاسکتی ہے، بطورِ مثال چند لنکس ذیل میں دیے جارہے ہیں:

یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کرنا اور پیسہ کمانا

یوٹیوب پر چینل بنا کر یا موبائل ایپس پر Ads لگا کر پیسے کمانا

یوٹیوب کے ذریعہ کمانا

یوٹیوب چینل پر بیانات وغیرہ اَپ لوڈ کرنا اور اس کی کمائی کا حکم

کھلونوں کی تصویر بنا کر یوٹیوب پر ڈال کر پیسے کمانے کا حکم

(2) ویب سائٹ پر اشتہارات کو صرف دیکھنے یا ان پر کلک کرکے کمانا، یہ دوسرا مسئلہ ہے، اشتہارات  خواہ جائز اشیاء کے ہوں، انہیں صرف دیکھنے یا کلک کرکے کمانے کے جواز کا فتویٰ جامعہ ہٰذا سے جاری نہیں ہوا،  تفصیل جواب کے شروع میں لکھ دی گئی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے