بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

پیر پکڑ کر یا پیروں میں گر کر معافی مانگنے کا حکم


سوال

پیر پکڑ کر معافی مانگنے یا پیر پر گر کے معافی مانگنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی کے پیر پکڑ کر یا پیروں پر گر کر معافی مانگنے میں غیر اللہ کے سامنے جھکنے کا شائبہ پایا جاتا ہے، اس لیے اگرچہ عبادت کی نیت نہ بھی ہو تب بھی ظاہری طور پر سجدہ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے  یہ مکروہ ہے اور اس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 383):

"(طلب من عالم أو زاهد أن) يدفع إليه قدمه و (يمكنه من قدمه ليقبله أجابه وقيل: لا) يرخص فيه، كما يكره تقبيل المرأة فم أخرى أو خدها عند اللقاء أو الوداع كما في القنية مقدماً للقيل، قال: (و) كذا ما يفعله الجهال من (تقبيل يد نفسه إذا لقي غيره) فهو (مكروه)، فلا رخصة فيه، وأما تقبيل يد صاحبه عند اللقاء فمكروه بالإجماع، (وكذا) ما يفعلونه من (تقبيل الأرض بين يدي العلماء) والعظماء فحرام، والفاعل والراضي به آثمان؛ لأنه يشبه عبادة الوثن، وهل يكفران؟ على وجه العبادة والتعظيم كفر، وإن على وجه التحية لا، وصار آثماً مرتكباً للكبيرة. وفي الملتقط: التواضع لغير الله حرام. وفي الوهبانية: يجوز بل يندب القيام تعظيماً للقادم كما يجوز القيام، ولو للقارئ بين يدي العالم وسيجيء نظماً.

 (قوله: إن على وجه العبادة أو التعظيم كفر إلخ) تلفيق لقولين قال الزيلعي: وذكر الصدر الشهيد أنه لايكفر بهذا السجود، لأنه يريد به التحية، وقال شمس الأئمة السرخسي: إن كان لغير الله تعالى على وجه التعظيم كفر اهـ قال القهستاني: وفي الظهيرية يكفر بالسجدة مطلقاً. وفي الزاهدي: الإيماء في السلام إلى قريب الركوع كالسجود. وفي المحيط: أنه يكره الانحناء للسلطان وغيره اهـ وظاهر كلامهم إطلاق السجود على هذا التقبيل... (قوله: التواضع لغير الله حرام) أي إذلال النفس لنيل الدنيا، وإلا فخفض الجناح لمن دونه مأمور به سيد الأنام عليه الصلاة والسلام يدل عليه ما رواه البيهقي عن ابن مسعود -رضي الله عنه-: " من خضع لغني ووضع له نفسه إعظاماً له وطمعاً فيما قبله ذهب ثلثا مروءته وشطر دينه".

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"معافی مانگنے کے لیے پیر پکڑنا نظر سے نہیں گزرا، بظاہر تو یہ برہمن کی تعظیم ہے، بغیر معافی کے بھی ان کے یہاں کسی کے پیر چھونے کا رواج ہے، جس کو ’’پیر لاگن‘‘ کہتے ہیں، بطور کسی عالم زاہد کے پیر کو بوسہ دینا مصرح ہے۔۔۔ مگر اس کے مقابلہ میں دوسرا قول بھی ہے۔۔۔ اس کے ثبوت میں علامہ شامی نے ۵ ؍ ۲۴۵ میں لکھا ہے:۔۔۔ مگر ایسی ہیئت نہ ہو کہ سجدہ کی شکل بن جائے"۔(فتاوی محمودیہ:۱۹؍۱۳۵) فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144004201096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے