بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

پیدائش کے موقع پر نو مولود کو دیے جانے والے تحفہ کا حکم


سوال

ایک رسم کے متعلق راہ نمائی درکار ہے کہ جب کسی گھرانے میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو پیدائش کے ساتویں روز دن یا رات کے اوقات میں گاؤں کے لوگ اور دوست احباب اس گھرانے میں آتے ہیں, مرد حضرات حجرے یعنی بیٹھک میں, جب کہ مستورات گھر میں بیٹھتی  ہیں۔ مستورات بچے کو پیسے دیتی ہیں، اور گھر والے مرد اور عورتوں کو مٹھائی کھلاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ رسم منانا بدعت میں شامل ہے یا نہیں? اگر بدعت نہیں تو اس رسم کا منانا جائز ہے یا ناجائز ? اگر جائز ہے تو افضل طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

بچے کی پیدائش پر رشتہ داروں اور دوست احباب کی جانب سے نومولود کو کا بطورِ  تحفہ نقدی یا کپڑے وغیرہ دینا فی نفسہ مباح عمل  ہے،  جو  صلہ رحمی کے طور پر  دینے کی صورت میں باعثِ اجر و  ثواب  بھی ہے۔   البتہ  جہاں لین دین کا رواج محض رسمی طور پر ہو، اور دینے لینے والوں کا مقصد صلح رحمی نہ ہو ، بلکہ تحفہ  اس غرض سے دیا جائے کہ ہماری خوشی میں بھی یہ لوگ  تحفہ دیں گے، یعنی  بدلہ چکانا یا بدلہ حاصل کرنا پیشِ نظر ہو، یا شرما حضوری میں  دینا کہ اگر نہ دیا  تو لوگ کیا کہیں گے؟ یا حیثیت  نا ہو نے  کے باوجود ، تحفہ  دینے کو ضروری سمجھنا،  اور تحفہ نہ ملنے یا کم ملنے پر  شکوہ شکایت کی جاتی ہو ،  اور حساب کتاب رکھا جاتا ہو کہ کس نے کتنا دیا کہ ہم بھی اتنا ہی انہیں واپس کریں گے، یا اس قسم کی غیرضروری پابندیوں کی رعایت کی جاتی ہو  تو اس صورت میں پیدائش کے موقع پر مذکورہ رواج   واجب الترک ہوگا۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں پیدائش کے موقع پر   اگر محض رواج کے طور پر دینے کا اہتمام کیا جاتا ہو، تو ایسے رواج کو ترک کرنا ضروری ہوگا،  البتہ اگر کوئی برضا و خوشی تحفہ دے تو لینے کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے