بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

پہنچوائی کی قیمت کسٹمر کو بتانا


سوال

کریانہ کی دوکان تھی،  سامان کی پہنچوائی کے پیسے گاہک کی اطلاع کے بغیر بل میں ڈال دیتا تھا،  کیا اس کی اطلاع دینا ضروری ہے؟

جواب

اگر پہنچوائی کی قیمت  سامان کے علاوہ ہو تو  اس (پہنچوائی)  کی قیمت کا علیحدہ سے ذکر کرنا ضروری ہے، بل ہی میں اس کی صراحت کردیں تو  کافی ہے۔  اور اگر سامان کی ڈیلیوری فری ہو یا اس کی قیمت سامان کی قیمت میں شامل کرلی گئی ہو تو  پھر اس کی صراحت ضروری نہیں۔ اور اگر آپ نے اپنے کسی  گاہک سے پہنچوائی کے پیسے اس کو بتائے بغیر وصول کیے ہیں تو  اب ان کو اطلاع کردیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 147):
"(ومنها:) أن يكون مقدور التسليم عند العقد، فإن كان معجوز التسليم عنده لاينعقد".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے