بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

پھل پکنے سے پہلے فروخت کردیا تو عشر مشتری پر ہے


سوال

مٹر کی پھلی بن گئی تھی،  لیکن ابھی پکی نہیں تھی کہ مالک نے فروخت کر دی، اور مشتری نے پکنے کے بعد کاٹ کر فروخت کر دی۔ اب عشر بائع اول پر لازم ہوگا یا ثانی پر؟ اگر ثانی پر ہو گا تو اول پر مٹر کی رقم میں سے زکاۃ ادا کرنا ہوگی؟

جواب

مذکورہ صورت میں چوں کہ مٹر مشتری کی ملکیت میں پکے ہیں؛ لہذا عشر مشتری پر لازم ہوگا نہ کہ بائع پر ۔ بائع جو رقم لے چکا ہے، اگر وہ رقم دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر ہے، یا بائع پہلے سے صاحبِ نصاب چلا آرہاہے تو جس قدر رقم زکاۃ کی ادائیگی کے دن اس کی ملکیت میں ہوگی بائع اس رقم کی زکاۃ اداکرے گا۔

المبسوط میں ہے :

"وأما المشتري فقد استحقه عوضاً عما أعطى من الثمن فلا شيء عليه فإن باعها والزرع بقل فعشره على المشتري إذا حصده بعد الإدراك؛ لأن وجوب العشر في الحب وانعقاده كان في ملك المشتري وهو نماء أرضه، وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى عشر مقدار البقل على البائع؛ لأن ذلك القدر من النماء حصل في ملكه، أما عشر الحب فعلى المشتري، وكذلك إن باع الزرع وهو قصيل، فإن قصله المشتري في الحال فالعشر على البائع، وإن تركه على الأرض بإذن البائع حتى استحصد فالعشر على المشتري، وكذلك كل شيء من الثمار وغيره مما فيه العشر يبيعه صاحبه في أول ما يطلع فإن قطعه المشتري فالعشر على البائع، وإن تركه بإذن البائع حتى أدرك فالعشر على المشتري". (3/339)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وإن تركه حتى أدرك فعشره على المشتري في قول أبي حنيفة ومحمد؛ لتحول الوجوب من الساق إلى الحب". (4/70)

فتاوی شامی میں ہے :

"ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري، ولو بعده فعلى البائع". (2/333) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں