بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

پردہ نہ کرنے پر وعید


سوال

جو عورتیں پردہ نہیں کرتی ہیں، ان کے بارے میں احدیث میں جو وعیدیں آئیں ہیں، مجھے وہ احادیث بتادیجیے.

جواب

واضح رہے کہ آج کل گلی کوچوں میں، بازاروں میں، کالجوں میں اور دفتروں میں بے پردگی کا جو طوفان برپا ہے اور یہود ونصاریٰ کی تقلید میں ہماری بہو بیٹیاں جس طرح بن ٹھن کر بے حجابانہ گھوم پھر رہی ہیں، قرآنِ کریم نے اس کو (جاہلیت کا تبرج) فرمایا ہے، اور یہ انسانی تہذیب، شرافت اور عزت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، مستدرک میں بہ سندِ صحیح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس عورت نے اپنے گھر کے سوا دوسری کسی جگہ کپڑے اتارے اس نے اپنے درمیان اور اللہ کے درمیان جو پردہ حائل تھا، اسے چاک کردیا‘‘. عورت کے سر کا ایک بال بھی ستر ہے اور نامحرموں کے سامنے ستر کھولنا شرعاً حرام اور طبعاً بے غیرتی ہے۔

قرآنِ مجید میں ہے:

{وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى} [الأحزاب: 33]

مشکاۃ شریف میں ہے:

"عن أبي المليح قال: قدم على عائشة نسوة من أهل حمص، فقالت: من أين أنتن ؟ ... قالت: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لاتخلع امرأة ثيابها في غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربها". (مشكوة، ص: 383، واللفظ للترمذي: 102)

وفيه أيضاً:

"عن الحسن مرسلًا قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله الناظر والمنظور إليه".  (الفصل الثالث، ج:2، ص: 936)

ترجمہ: حضرت حسن سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دیکھنے والے اور جسے دیکھا جائے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

وفيه أيضًا:

"المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان". (الفصل الثالث، ج: 2، ص: 269)

ترجمہ: عورت چھپانے کی چیز ہے، چناں چہ جب وہ (گھر سے) نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاک میں رکھتاہے۔  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200909

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے