بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈز کا حکم


سوال

پرائز بانڈحلال یا حرام؟

جواب

پرائز بانڈ کے ذریعے حاصل ہونے والی انعامی رقم ناجائز ہے؛ لہٰذا اس انعامی رقم کے حصول کے لیے پرائز بانڈز لینا بھی جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے لاعلمی کی وجہ سے لے لیے ہوں یا غیر اختیاری طور پر (مثلاً ترکے میں) اس کی ملکیت میں آگئے ہوں تو پرائز بانڈ کی اصل مالیت کے برابر رقم لینا جائز ہوگا، اضافی رقم لینے کی اجازت نہیں ہوگی، اگر وصول کرلی ہو تو اس کے بقدر رقم مستحقِ زکاۃ غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر مالک بناکر دینا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے