بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ کو بطور قرض بمع سود لینا، اور اسلامی بینک سے قرضہ لینا جائز ہے؟


سوال

مجھے اپنا گھر خریدنے کی ضرورت ہے، کیا اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے میں اپنے آفس سے پراویڈنٹ فنٖڈ لے سکتا ہوں؟ یہ فنڈ مجھے لون کی شکل میں ملے گا، اور سود کے ساتھ واپس کرنا پڑے گا۔ اور اس کے علاوہ کچھ پیسہ اور بھی چاہیے جو میں کسی اسلامی بینک سے قرض کی صورت میں لینا چاہ رہا ہوںْ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں جگہوں سے قرض لینا جائز ہوگا؟ 

جواب

سود پر قرض لینا جائز نہیں ہے، جب کہ اسلامی بینک سے ملنے والا ہوم فائنینسنگ پروگرام بھی علما کی ایک بڑی تعداد کی راے کے مطابق جائز نہیں ہے، اس لیے ان دونوں جگہوں سے پیسوں کا حصول درست نہیں ہے۔


فتوی نمبر : 143709200038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے