بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جمادى الاخرى 1441ھ- 28 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کو استعمال کرنا اور اس پر نفع حاصل کرنا


سوال

 پرائز بانڈ کا استعمال اور اس پر نفع حاصل کرنا مسئلے کے لحاظ سےکیسا ہے؟

جواب

پرائز بانڈ چوں کہ سود اور جوئے پر مشتمل ہوتا ہے؛ اس وجہ سے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں۔  اگر لاعلمی میں لے لیا ہو یا تبادلے میں آگیا ہو  تو  اسے واپس کردیا جائے اور  اس صورت میں صرف اصل رقم کا  استعمال کرنا جائزہوگا، بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت میں انعامی رقم کا استعمال شرعاً جائز نہیں اور ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکاۃ کو دینا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A7%D9%86%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%88-%DA%A9%D8%A7-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DA%A9%D9%85/02-10-2018


فتوی نمبر : 144003200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے