بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت کا شرعی حکم


سوال

 پرائز بانڈ کے اُٹھنے سے جو پیسے ملتے ہیں یہ جائز ہوتے ہیں یا نہیں؟ کیوں کہ بانڈ پر لکھا ہوتا ہے  کہ یہ پیسے علاوہ سود  دیے جاتے ہیں۔

جواب

پرائز بانڈ چوں کہ سود اور جوئے پر مشتمل ہوتا ہے؛ اس وجہ سے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، اس سے حاصل ہونے والی رقم شرعاً سود کے حکم میں ہے، اگر لاعلمی میں لے لیا ہو یا  تبادلے میں آگیا ہو  تو بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت میں صرف اصل رقم استعمال کرنا جائزہے،  انعامی رقم کا استعمال شرعاً جائز نہیں اور ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکاۃ کو دینا ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200866

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں