بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پاک اور ناپاک چیز کے ملنے سے پاکی کا حکم


سوال

 آپ کا ایک فتوی پڑھا تھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ اگر کوئی  بچہ قالین پر پیشاب کر دے اور قالین خشک ہو جانے کے بعد اگر کسی کا گیلا پاؤں اس پر لگ جائے تو کیا پاوں ناپاک ہو جائے  گا؟  آپ نے جواب دیا تھا کہ  پاؤں ناپاک نہیں ہو گا۔

 جب کہ ہمارے امام مسجد کا کہنا ہے کہ اگر متنجس اور پاک چیز میں گیلاہٹ (گیلا پن)کی حالت میں ایک دوسرے سے مس کریں تو پاک چیز ناپاک ہو جاتی ہے۔ اس بارے میں ذرا وضاحت فرما دیں۔

 نیز خشک ہاتھ پر پر جو عموماً نمی آ جاتی ہے کیا وہ بھی اس گیلے  پن کے زمرے میں آتی ہے؟

جواب

ہمارے فتوے اور  آپ کی مسجد کے امام صاحب کے جواب میں تضاد نہیں ہے، ہمارے جواب میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ گیلا پاؤں اس خشک قالین پر پڑجائے اور  پاؤں پر نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو تو ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ اور اگر نجاست کا اثر ظاہر ہوجائے تو ناپاک ہوجائے گا۔ 

ہمارے ہاں سے جاری شدہ فتوے کے الفاظ یہ ہیں:

’’ قالین کے خشک ہوجانے کے بعد اس پر ترپاؤں لگنے سے پاؤں ناپاک نہیں ہوں گے جب تک کہ نجاست کا اثر پاؤں میں  ظاہر نہ ہو۔ البتہ اگر نجاست کی جگہ متعین ہو اور گیلا پاؤں وہاں لگنے کے بعد کوئی احتیاطاً دھولے تو  بہتر ہے، لیکن یہ حکم از روئے فتویٰ نہیں ہے‘‘۔

اور مذکورہ فتوے میں اس کی دلیل میں صریح عبارت بھی موجود ہے۔

اور آپ  کی مسجد  کے امام صاحب کا جواب اس صورت سے متعلق ہے: جب ایک  گیلا ناپاک کپڑا، خشک پاک  کپڑے  سے  مل جائے تو کیا وہ ناپاک ہو گا یا نہیں؟  تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ اگر ناپاک کپڑے  کی تری پاک کپڑے میں آ جائے اور وہ گیلا ہو جائے تو وہ ناپاک ہو جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 347):
"والحاصل أنه على ما صححه الحلواني: العبرة للطاهر المكتسب إن كان بحيث لو انعصر قطر تنجس وإلا لا، سواء كان النجس المبتل يقطر بالعصر أو لا. وعلى ما في البرهان العبرة للنجس المبتل إن كان بحيث لو عصر قطر تنجس الطاهر سواء كان الطاهر بهذه الحالة أو لا، وإن كان بحيث لم يقطر لم يتنجس الطاهر، وهذا هو المفهوم من كلام الزيلعي في مسائل شتى آخر الكتاب".

محض ہاتھ پر نمی کے محسوس ہونے کی وجہ سے ہاتھ کو ناپاک نہیں کہا جائے گا جب تک ناپاکی کے اثرات ہاتھ پر نہ ہوں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 350):
"(قوله: مشى في حمام ونحوه) أي: كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لايحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه؛ للضرورة، فتح. وفيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة؛ لأنه المانع، إلا أن يحتاط، وأما في الحكم فلايجب". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے