بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پاکستان میں رہنے والے شخص کا سعودیہ عرب کے ساتھ رمضان شروع کرنا


سوال

 زید پاکستان میں رہتا ہے اس نے اپنا پہلا روزہ سعودی عرب کے ساتھ رکھا ہے، اور پاکستان کے روزے بھی پورے رکھے، اب پوچھنا یہ ہے سعودیہ عرب والا پہلا روزہ نفلی ہوگا یا ویسے ہی ہوگا؟

جواب

پاکستان میں رہنے والا شخص جب پاکستان میں ہو تو اس کے لیے پاکستان میں چاند کی رؤیت کے مطابق روزہ رکھنا ضروری ہے، سعودیہ کی رؤیت کے مطابق روزہ رکھنا درست نہیں ہے، لہذا اس شخص کا پہلا روزہ وہی ہوا جو اس نے پاکستان میں چاند نظر آنے کے بعد رکھا ہے، اس سے پہلے جو ایک دن روزہ رکھا ہے اگر اس کو رمضان کا روزہ سمجھ کر رکھا ہو تو یہ عمل مکروہِ تحریمی ہوا، اگر نفل کی نیت سے رکھا اور یہ شخص اہلِ علم میں سے ہے، یا اس شخص کی پورے شعبان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی عادت تھی یا پیر اور جمعرات کے روزہ کا معمول تھا اور تیس شعبان انہی دنوں میں آیا تو اس کے لیے اس دن روزہ رکھنا درست تھا اور یہ نفلی روزہ شمار ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 381):
"(ولايصام يوم الشك) هو يوم الثلاثين من شعبان وإن لم يكن علة أي على القول بعدم اعتبار اختلاف المطالع؛ لجواز تحقق الرؤية في بلدة أخرى، وأما على مقابله فليس بشك ولايصام أصلاً شرح المجمع للعيني عن الزاهدي (إلا نفلاً) ويكره غيره (ولو صامه لواجب آخر كره) تنزيهاً ولو جزم أن يكون عن رمضان كره تحريماً (ويقع عنه في الأصح إن لم تظهر رمضانيته وإلا) بأن ظهرت (فعنه) لو مقيماً (والتنفل فيه أحب) أي أفضل اتفاقاً (إن وافق صوماً يعتاده) أو صام من آخر شعبان ثلاثة فأكثر لا أقل لحديث: «لاتقدموا رمضان بصوم يوم أو يومين». وأما حديث: «من صام يوم الشك فقد عصى أبا القاسم» فلا أصل له، (وإلا يصومه الخواص ويفطرغيرهم بعد الزوال) به يفتى، نفياً لتهمة النهي (وكل من علم كيفية صوم الشك فهو من الخواص وإلا فمن العوام، والنية) المعتبرة هنا (أن ينوي التطوع) على سبيل الجزم (من لايعتاد صوم ذلك اليوم) .

(قوله: كره تحريماً) للتشبه بأهل الكتاب؛ لأنهم زادوا في صومهم، وعليه حمل حديث النهي عن التقدم بصوم يوم أو يومين بحر (قوله: ويقع عنه) أي عن الواجب وقيل: يكون تطوعاً هداية، (قوله: إن لم تظهر رمضانيته) في السراج: إذا صامه بنية واجب آخر لايسقط؛ لجواز أن يكون من رمضان فلايكون قضاءً بالشك اهـ فأفاد أنه لو لم يظهر الحال لايكفي عما نوى، فكان على المصنف أن يقول كما قال في الهداية: إن ظهر أنه من شعبان أجزأه عما نوى في الأصح وإن ظهر أنه من رمضان يجزيه لوجود أصل النية. اهـ.
(قوله: فعنه) أي عن رمضان (قوله: لو مقيماً) قيد لقوله: كره تنزيهاً، ولقوله: فعنه، قال في السراج: ولو كان مسافراً فنوى فيه واجباً آخر لم يكره؛ لأن أداء رمضان غير واجب عليه فلم يشبه صومه الزيادة ويقع عما نوى، وإن بان أنه من رمضان، وعندهما يكره كالمقيم ويجزى عن رمضان إن بان أنه منه (قوله: إن وافق صوماً يعتاده) كما لو كان عادته أن يصوم يوم الخميس أو الاثنين فوافق ذلك يوم الشك، سراج. وهل تثبت العادة بمرة كما في الحيض تردد فيه بعض الشافعية". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے