بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

پانی کی خرید وفروخت کا حکم


سوال

میرا پانی سپلائی کا کام ہے،  میں بڑا ٹینکر خرید کر اپنے پلاٹ کی ٹنکی میں اس کا پانی ڈالوا کرپھر پانی کو چھوٹی گاڑی کے ذریعے محلہ کے گھر اور گودام وغیرہ میں فروخت کرتا ہوں،  کیا یہ کاروبار شرعی طور پر جائز ہے?

جواب

پانی خرید کر اپنے پلاٹ کی ٹنکی میں محفوظ کرنے کے بعد آگے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے ۔

" إن صاحب البئر لایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته".  (ردالمحتار ج : ۵،  کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء ص: ۶۷)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200816

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں