بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 28 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

پارٹنرشپ میں تنخواہ مقرر کرنا


سوال

پارٹنرشپ میں ایک پارٹنر اپنی تنخوا مقرر کر سکتا ہے؟ یا دونوں پارٹنرز منافع کے ساتھ اپنی اپنی تنخواہیں بھی لے سکتے ہیں؟

جواب

شراکت (پارٹنرشپ) میں کسی شریک کے لیے متعین تنخواہ مقرر کرا جائز نہیں ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ شرکاء کے سرمایہ اور محنت کو دیکھ کر ہر ایک کا نفع میں سے خاص تناسب فیصد کے اعتبار سے طے کرلیا جائے، یعنی اگر ایک شریک محنت زیادہ کرتا ہے تو نفع میں اس کا فیصدی حصہ دوسرے شریک کی نسبت زیادہ رکھا جاسکتاہے۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان". (4/326،دارالفکر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200556

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے