بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

پائپ کے ذریعہ مربوط کرنے کی وجہ سے ٹینکیوں کے پانی کا حکم


سوال

پانی کی مختلف ٹنکیاں آپس میں مربوط کردینے کی وجہ  سے وہ پانی جاری پانی کے حکم ہوگا یا نہیں؟  مثلاً 19ٹنکیوں کو  پائپ کے ذریعے آپس میں مربوط کردیا جائے تو وہ پانی جاری پانی کے حکم میں ہوگا یا نہیں؟  اگر اس میں نجاست گر جائے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر کسی ٹینکی کا پانی ناپاک ہو جائے اور اس میں ایک طرف سے پانی داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے پائپ کے ذریعہ اس کا پانی نکل رہا ہو تو ایسی ٹینکی کے پانی کو جاری کہا جائے گا، اور جاری ہونے کی وجہ سے (اگر اس میں نجاست کوئی وصف یعنی رنگ، ذائقہ یا بو محسوس نہ ہو تو) وہ پاک ہو جائے گا؛  لہذا ٹینکیوں کو باہم مربوط کرنے کی وجہ سے اگر ایک ٹینکی کا پانی اس ٹینکی سے دوسری میں منتقل ہو جاتا ہے تو یہ جاری ہو گا اور اگر اس پانی میں نجاست کا کوئی اثر نہ ہو تو وہ پاک شمار ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 17):
"حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 187):
"والعرف الآن أنه متى كان الماء داخلًا من جانب وخارجًا من جانب آخر يسمى جاريًا وإن قل الداخل". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے