بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹی وی کیبل اور انٹرنیٹ کیبل کنکشن کی سپلائی کرنا


سوال

 ٹی وی، یا کیبل ٹی وی موجودہ زمانے کی ایک سائنسی ایجاد ہے، جس پر اچھے پروگرام بھی آتے ہیں اور برے  واہیات پروگرام بھی آتے ہیں،  اب یہ صارف کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کون سے پروگرام دیکھتا  ہے،  سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صارف غلط اور گانے بجانے کے برے  پروگرام دیکھتا ہے تو اس کے گناہ میں کیبل ٹی وی سپلائی کرنے والی کمپنی بھی ذمہ دار اور شریک سمجھی  جائے گی یا نہیں؟

اسی طرح ایک صارف زید اپنے گھر کے کیبل کا کنکشن کسی دوسرے آدمی بکر کو دیتا  ہے یعنی شئیر کرتا ہے اور پھر دوسرا آدمی بکر اس کیبل پر کوئی غلط پروگرام دیکھتا ہے تو کیا بکر کے گناہ کا ذمہ دار  کنکشن شئیر کرنے والا زید بھی ہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کا جائز اور ناجائز دونوں طرح استعمال ہوسکتا ہو اس کی خرید وفروخت، سپلائی، ریپیرنگ وغیرہ جائز ہے، اگر کوئی شخص اس کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا، لیکن جس چیز کا استعمال ہی ناجائز ہو یا وہ معصیت (گناہ) ہی کا آلہ شمار ہوتا ہو اس کی خرید وفروخت یا اس میں کسی قسم کا تعاون جائز نہیں ہے۔

اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ٹی وی  کا استعمال جان دار کی تصاویر پر مشتمل پروگرام دیکھنے میں ہوتا ہے اور ان  پروگراموں میں  فحش تصاویرنہ بھی ہوں تب بھی بوجہ تصویر ہونے کے از روئے شرع ان کا دیکھنا اور دکھانا حرام ہے، جب کہ ٹی وی پر آنے والے اکثر پروگرام فحاشی، عریانیت اور بے حیائی پر مشتمل ہوتے ہیں، ٹی وی کا جائز استعمال نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ اس کی غرض ہی ناجائز کے لیے ہے،  اس لیے ٹی وی معصیت کا آلہ ہے،  لہٰذا ٹی وی  کی خرید و فروخت اور کاروبار ہی جائز  نہیں ہے۔  جب ٹی وی ہی معصیت کا آلہ ہے تو ٹی وی کیبل اس کے لیے معاون ہے ، اور ٹی وی کیبل سپلائی کرنے والا براہِ راست اس گناہ کے کام میں تعاون کرنے والے ہوتا ہے، لہذا ٹی وی کیبل کا کام کرنا، یا اس کی سپلائی کرنا، خواہ وہ کمپنی کرے یا کوئی فرد دوسرے کو دے بہر صورت ناجائز ہے۔

جب کہ انٹرنیٹ کیبل وغیرہ کا جائز اور ناجائز استعمال دونوں طرح ہے، انٹرنیٹ محض ٹی وی پروگرام دیکھنے کے لیے مختص نہیں ہے،  بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہت سے جائز کام بھی کیے جاسکتے ہیں، اس لیے انٹرنیٹ کیبل کی سپلائی اور شیئر کرنا جائز ہے، اگر اس کا کوئی ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی غلط استعمال کرنے والے پر ہوگا۔

البحرالرائق میں ہے :

"وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه، وما لا فلا، ولذا قال الشارح: إنه لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة".(5/155)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اهـ  قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه". (4/268)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے