بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس سے بچنے کے لیے غیرقانونی طریقہ ادائیگی اختیار کرنے والے ادارہ میں ملازمت کی تنخواہ کا حکم


سوال

میں ایک ادارہ میں اکاونٹینٹ ہوں جو کہ ادائیگیوں کے لیے غیر قانونی طریقہ استعمال کرتے ہیں اور ٹیکس وغیرہ سے بچنے کے لیے  بینکنگ چینل سے اجتناب کرتے ہیں ،  کیا میری تنخواہ حلال ہے؟

جواب

اگر ادارے  کا اپنا کام جس پر آپ کو تنخواہ ملتی ہے وہ جائز ہو  اور  آپ  بحیثیت  اکاونٹینٹ حسابات میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دھوکہ دہی نہ کریں ، صرف ٹیکس سے بچنے کے لیے  بینک کا راستہ اختیار نہ کریں تو آپ کی آمدنی حلال ہوگی، ادارہ کی ادائیگیوں کے طریقہ کار سے آپ کی کمائی پر فرق نہیں پڑےگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143901200070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے