بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا ٹیکس ادا کرنے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی؟


سوال

کیا ٹیکس اور زکاۃ ایک شے نہیں ہے؟ تاریخی اعتبار سے پہلے چار خلفاۓ راشدین کے دور میں بھی کوئی ٹیکس یا لگان کا کوئی نظام نہ تھا، بلکہ زکات اور مالِ غنیمت سے ہی حکومتی معاملات چلا کرتے تھے. یہ باقاعدہ حضرت عمر کے دور میں یہ ایک حکومتی شعبے میں تبدیل ہوا، آج کی حکومتیں ٹیکس، بلکہ ظالمانہ ٹیکس وصولی کی مرتکب ہیں، جب کہ زکات بھی خودبخود کٹ جاتی ہے،  میں ذاتی طور پر کوئی سود وصول نہیں کرتا، مگر کل سال کی کمائی کا تیس فیصد کٹ جاتا ہے.  یہ سوال کبھی ذہن میں نہیں آیا؛ کیوں کہ ٹیکس اور زکاۃ ہمیشہ ادا کی. لیکن اب کاروباری حالات ایسے ہیں کہ کاروبار بند ہونے کو ہے. دوستوں کا مشورہ یہی ہے کہ زکاۃ دے دی تو ٹیکس نہ دو اور اگر ٹیکس دے رہے ہو تو زکاۃ ادا ہو گئی. یہ معاملہ یہاں ایک بڑی کاروباری کمیونٹی کرتی ہے. مجھے چوں کہ اپنا جواب دینا ہے، اس لیے سوال درپیش ہے۔

جواب

زکاۃ عبادت ہے، اس کا ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں، ٹیکس کوئی بھی حکومت اپنے اخراجات سامنے رکھ کر مخصوص قوانین کے مطابق عوام سے وصول کرتی ہے، لہذا اگر زکاۃ واجب ہو تو ٹیکس دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اس کی ادائیگی علیحدہ سے کرنا ضروری ہے، اور زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، اس لیے ٹیکس کی مد میں کاٹی جانے والی رقم (اگرچہ وہ جائز مصارف مثلاً تعمیرات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ میں خرچ ہورہی ہو، تب بھی اس رقم) کی ادائیگی کے وقت زکاۃ کی نیت سے دینے سے بھی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

ٹیکس کی ضرورت اور اس کی جائز حد کی تفصیل کے حوالے سے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیے:

ٹیکس کی شرعی حیثیت

انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی شرعی حیثیت

آپ نے سوال میں اپنی معاشی پریشانی اور ذہنی الجھن کے حوالے سے جو باتیں ذکر کی ہیں، ان کے حوالے سے چند باتوں کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے:

1- جہاں تک ہماری معلومات ہیں ان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ میں سے بینک از خود زکاۃ کی کٹوتی نہیں کرتے، زکاۃ کی کٹوتی صرف سیونگ اکاؤنٹ میں ہوتی ہے، اس لیے اگرچہ آپ خود سود وصول نہ کررہے ہوں، لیکن معلوم یہ ہوتاہے کہ آپ کا اکاؤنٹ سیونگ ہے، اس لیے زکاۃ کی کٹوتی کے حوالے سے آپ کی مشکل کا حل یہ ہے کہ اپنا اکاؤنٹ سیونگ سے تبدیل کرکے کرنٹ اکاؤنٹ کردیجیے، یا نیا کرنٹ اکاؤنٹ بناکر رقم اسی میں منتقل کردیجیے، اور اس اکاؤنٹ سے معاملات ختم کردیجیے۔  اور اگر سیونگ اکاؤنٹ آپ نے از خود نہیں کھلوایا اور اب کسی وجہ سے آپ اسے بند یا منتقل نہیں کرواسکتے تو بھی اس کا حل موجود ہے کہ آپ اپنے متعلقہ بینک کو تحریری طور پر آگاہ کردیجیے کہ آپ اپنی زکاۃ کا حساب خود رکھتے ہیں اور آپ اپنی زکاۃ خود ادا کریں گے، تاکہ اگر قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد آپ پر اتنی زکاۃ واجب نہیں ہوتی جتنی اکاؤنٹ میں موجود رقم کے اعتبار سے بن رہی ہے تو آپ از خود واجب مقدار ہی ادا کریں، اس اعتبار سے بھی آپ کی پریشانی کا کسی حد تک حل نکل سکتاہے۔

2- درج بالا لنک میں ٹیکس کے حوالے سے تفصیل درج ہے، تاہم اگر واقعۃً ناقابلِ تحمل ٹیکس ہو، تو اس سے بچاؤ کی جائز تدبیر کی جاسکتی ہے، اس حوالے سے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ٹیکس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا

3- جہاں تک آپ کی یہ بات ہے کہ چاروں خلفاءِ راشدین کے دور میں ٹیکس کا نظام نہیں تھا، یہ بات مطلقاً درست نہیں ہے، جیساکہ آپ نے خود ہی لکھ دیا ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں باقاعدہ نظام بنا، اور ظاہر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوسرے خلیفۂ راشد ہیں۔

مختصراً اس کی وضاحت یہ ہے کہ چاروں خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں مسلمانوں سے زکاۃ ،عشر  اور معادن و رکاز وغیرہ سے وصولی کے علاوہ اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی تھی، البتہ غیر مسلموں سے معاہدے کے مطابق جزیہ، خراج اور غیر مسلم تاجروں کی اسلامی مملکت کی حدود میں آمد و رفت کی صورت میں ان سے لگان وصول کیا جاتا تھا۔ یہ ان مسائل کی تفصیل کا موقع نہیں ہے، بہر حال ابتدائی ادوار میں فتوحات کی کثرت کی وجہ سے غنیمت اور جزیہ و خراج کے وسائل ہی اتنے تھے کہ اس سے کارِ سرکار کی ضروریات پوری ہوجاتی تھیں، اور زکاۃ کی وصولی اور اس کے مصارف کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت یہ تھی کہ جس علاقے کے لوگوں سے زکاۃ وصول کی جائے وہ اسی کے فقراء پر صرف کردی جائے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عاملین امانت داری کے ساتھ زکاۃ وصول کرکے علاقے کے ضرورت مندوں پر صرف کرکے اس کا حساب رکھتے تھے، البتہ جو رقم بچ جائے یا زکاۃ کے علاوہ دیگر مدات میں حاصل کردہ رقم ہو، وہ جمع کرکے بیت المال میں جمع فرمادیتے تھے، اور چوں کہ قرآنِ مجید نے زکاۃ وصولی پر مامور سرکاری عملے کو زکاۃ کی مد میں سے دینے کی اجازت دی ہے، اس لیے بوقتِ ضرورت قدرِ ضرورت اس کی ادائیگی بھی کی جاتی تھی۔ لیکن مطلقاً یہ بات کہنا درست نہیں ہے کہ خلفاءِ راشدین کے دور میں زکاۃ اور غنیمت سے سرکاری اخراجات پوری کرلیے جاتے تھے، بلکہ زکاۃ اس دور میں بھی زکاۃ کے مصارف میں ہی صرف کی  جاتی تھی، یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور میں جب زکاۃ وصولی پر عاملین مقرر تھے، اس وقت بھی وہ ہر طرح کے اموال کی تفتیش اور جستجو کرکے زکاۃ وصول نہیں کرتے تھے، بلکہ جو اموال ظاہرہ ہوتے تھے ان ہی کی زکاۃ وصول کرتے تھے، اور پھر خیر القرون میں ہی زکاۃ کی ادائیگی ہر شخص کی اپنی ذمہ داری قرار دے دی گئی، اور سرکاری اہل کاروں کو زکاۃ کی وصولی سے منع کیا جانے لگا، تاکہ آئندہ چل کر کوئی حکم ران ناحق وصولی نہ کرنے لگے، یا زکاۃ کے مصارف کے علاوہ صرف نہ کرنے لگے۔ الغرض اس وقت سرکاری مصارف عموماً غنیمت، جزیہ، خراج، نفلی صدقات اور معادن و رکاز وغیرہ کی آمدن سے پورے ہوجاتے تھے۔ بعد کے زمانوں میں جب یہ مصارف نہ رہے تو فقہاءِ کرام نے سرکاری ضروریات کے پیشِ نظر قابلِ تحمل ٹیکس وصولی کی اجازت دی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 289):

"قال في التنجيس والولوالجية: السلطان الجائر إذا أخذ الصدقات، قيل: إن نوى بأدائها إليه الصدقة عليه لايؤمر بالأداء ثانياً؛ لأنه فقير حقيقةً.

ومنهم من قال: الأحوط أن يفتى بالأداء ثانياً، كما لو لم ينو؛ لانعدام الاختيار الصحيح، وإذا لم ينو، منهم من قال: يؤمر بالأداء ثانياً. وقال أبو جعفر: لا؛ لكون السلطان له ولاية الأخذ فيسقط عن أرباب الصدقة، فإن لم يضعها موضعها لايبطل أخذه، وبه يفتى، وهذا في صدقات الأموال الظاهرة، أما لو أخذ منه السلطان أموالاً مصادرةً ونوى أداء الزكاة إليه، فعلى قول المشايخ المتأخرين يجوز. والصحيح أنه لا يجوز وبه يفتى؛ لأنه ليس للظالم ولاية أخذ الزكاة من الأموال الباطنة. اهـ.

أقول: يعني وإذا لم يكن له ولاية أخذها لم يصح الدفع إليه وإن نوى الدافع به التصدق عليه؛ لانعدام الاختيار الصحيح، بخلاف الأموال الظاهرة؛ لأنه لما كان له ولاية أخذ زكاتها لم يضر انعدام الاختيار ولذا تجزيه سواء نوى التصديق عليه أو لا، هذا، وفي مختارات النوازل: السلطان الجائر إذا أخذ الخراج يجوز، ولو أخذ الصدقات أو الجبايات أو أخذ مالا مصادرة إن نوى الصدقة عند الدفع قيل يجوز أيضا وبه يفتى، وكذا إذا دفع إلى كل جائر نية الصدقة؛ لأنهم  بما عليهم من التبعات صاروا فقراء والأحوط الإعادة اهـ وهذا موافق لما صححه في المبسوط، وتبعه في الفتح، فقد اختلف التصحيح والإفتاء في الأموال الباطنة إذا نوى التصدق بها على الجائر وعلمت ما هو الأحوط.

قلت: وشمل ذلك ما يأخذه المكاس؛ لأنه وإن كان في الأصل هو العاشر الذي ينصبه الإمام، لكن اليوم لاينصب لأخذ الصدقات بل لسلب أموال الناس ظلماً بدون حماية، فلاتسقط الزكاة بأخذه، كما صرح به في البزازية. فإذا نوى التصديق عليه كان على الخلاف المذكور (قوله: لأنهم بما عليهم إلخ) علة لقوله قبله: "الأصح الصحة"، وقوله: بما عليهم تعلق بقوله: فقراء". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200211

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے